English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

۔21 ہزار فلسطینی بچوں کے لاپتا ہونے کا انکشاف

القمر

غزہ /تل ابیب /عمان/برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک /اے پی پی /آن لائن) 21 ہزار فلسطینی بچوں کے لاپتا ہونے کا انکشاف ہوا ہے‘ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ جنگ کا اختتام حماس اور اس کی حکومت کا خاتمے کیے بغیر نہیں ہوگا اور اس کے بعد بھی اسرائیلی فوجیں کافی عرصے تک غزہ میں رہیں گی۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو انٹرویو میں وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ہے جس کے 2 فائدے ہوں گے‘ غزہ میں جنگ کے خاتمے سے ہم لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اپنی مزید فوج بھیج سکیں گے تاکہ بے گھر اسرائیلی اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس آسکیں‘ غزہ جنگ کے خاتمے سے اسرائیلی فوجیں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف یکسو ہوکر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرسکیں گی جو وقت کی ضرورت بھی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی‘ حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے‘ غزہ میں حماس کی حکومت کے خاتمے کے بعد علاقے کا انتظام فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنے کے حامی نہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں جو ہزاروں بچے لاپتا ہیں وہ یا تو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں یا انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے یا پھر انہیں اسرائیلی فوجی گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔سیو دی چلڈرن کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں بچے دوران جنگ اپنے والدین سے بچھڑے اور ان میں بچوں کی ایک نامعلوم تعداد ہے جنہیں جبری لاپتا کرکے غزہ سے باہر لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔تنظیم کے نمائندے کے مطابق غزہ میں جنگ کی صورتحال میں معلومات جمع کرنا اور ان کی تصدیق کرنا مشکل ہے مگر کم از کم 17 ہزار بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں جب کہ 4000 بچے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں۔سیو دی چلڈرن کے مطابق بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے۔ اردن کی فوج کے 70 ٹرک ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر امدادی تنظیموں کا سامان لے کر غزہ جا رہے تھے کہ 3 ٹرک حادثے کا شکار ہوکر اُلٹ گئے جس کے نتیجے میں 2 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی بھی ہوئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اردن کی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ یہ حادثہ بحر مردار کے راستے پر عدسیہ کے نزدیک پیش آیا۔ صیہونی فورسز نے غزہ کے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں بمباری شروع کردی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 24 فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں کارروائی کے دوران 3نوجوانوں کوحراست میں لے لیا‘ 7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 37 ہزار 626 ہوگئی‘ 86 ہزار 98 فلسطینی زخمی ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس سے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جنگ جاری رہے گی، ایسے معاہدے کے لیے تیار ہیں جس سے قیدیوں کی واپسی ممکن ہو۔ دوسری جانب کویت نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر لبنان سے اپنے شہریوں کا انخلا شروع کر دیا ہے‘ اس حوالے سے کویتی بحری جہاز گزشتہ روز لبنان میں موجود شہریوں کے انخلا کے لیے روانہ کر دیا گیا، ایک دن پہلے ہی کویت نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکاروں کی جانب سے مغربی کنارے کے شہر جنین میں ایک چھاپے کے دوران ایک زخمی فلسطینی شخص کو اپنی گاڑی کے سامنے باندھ کر پروٹوکول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اس واقعے کی تصدیق اس وقت کی جب اس کی فلم بندی کی گئی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا گیا تھا۔ زخمی شخص کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے ایمبولینس مانگی تو فوجی اہلکار انہیں اپنی جیپ کے بونٹ پر باندھ کر ساتھ لے گئے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ کے پھیلاؤ کے کنارے پر کھڑا ہے۔ جوزپ بوریل نے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے لکسمبرگ میں رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنگی دائرہ لبنان کے جنوب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پھیلتی ہوئی جنگ کے دھانے پر کھڑے ہیں‘ ابھی کچھ ہی روز پہلے لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے یورپی ملک قبرص کو انتباہ کیا تھا۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں اسرائیلی بکتربند گاڑی کو گائیڈڈ میزائل سے تباہ کرنے کی وڈیو جاری کردی۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ٹیلیگرام چینل پر جاری کی جانے والی وڈیو میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو اسرائیلی بکتر بند پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس کے بعد بکتر بند گاڑی میں آگ بھی لگ جاتی ہے۔حماس کے مطابق رفح کے علاقے تل زعرب میں اسرائیلی فوج کی انجینئرنگ کور کی بکتر بند گاڑی کو ریڈ ایرو میزائل سے نشانہ بنا گیا جس کے بعد مدد کے لیے آنے والے فوجی دستوں پر راکٹ داغے گئے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے