English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلدیہ کراچی کا 49ارب کا بجٹ پیش،پانی بحران پر ایوان میں ہنگامہ ،اراکین گتھم گتھا

کراچی،بلدیہ کے بجٹ کے موقع پر اپوزیشن ارکان سخت احتجاج کررہے ہیں، چھوٹی تصویر میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 2024.25کے لیے49ارب 70کروڑ 18لاکھ روپے کا بجٹ منظور کرلیا گیا، کے ایم سی کا آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ 9کروڑ 99لاکھ روپے سرپلس ہوگا،میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ پیش کیا۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کی زیرصدارت بجٹ اجلاس شروع ہوا تو اراکین ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ اپوزیشن ارکان میئر کے سامنے آگئے۔ اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے قبضہ میئر نامنظور اور کراچی کو پانی دو کے نعرے لگائے۔حزب اختلاف نے بجٹ پرمسترد کرتے ہوئے بجٹ پر10نکاتی وائٹ پیپرجاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سٹی کونسل میں ہنگامہ آرائی کے دوران آئندہ مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں فنڈز و آمدنی کا تخمینہ 49ارب 70کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 49ارب 60کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے سرپلس بجٹ میں 9کروڑ 99لاکھ روپے بچت ظاہر کی گئی ہے جبکہ بجٹ میں گریڈ 1سے 16گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ میں 25فیصد اور گریڈ 17سے گریڈ 21 تک کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں کے ایم سی کے ریٹارڈ ملازمین کی پنشن میں 15فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔ کے ایم سی بجٹ 2023.24۔ ریونیو تخمینہ 49ارب 70کروڑ روپے۔ دستاویزات کے مطابق ریونیو تفصیلات کچھ اس طرح ہے کہ بجٹ میں حکومت سے گرانٹ اور فنڈز کا تخمینہ 25ارب روپے ہے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی مد میں 9 ارب 16کروڑ روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کلک ورلڈ بینک منصوبے کیلیے 6ارب 47کروڑ روپے وصولی کی مد میں رکھے گئے ہیں جبکہ انفورسمنٹ اینٹی انکروچمنٹ سے ریونیو وصولی کا تخمینہ 23کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ 31کروڑ ، کچی آ بادی 17کروڑ ، پی ڈی اورنگی سے 20کروڑ ریونیو وصولی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ چارچڈ پارکنگ 15کروڑ ، انفورسمنٹ ایمپلیٹیشن سے 17کروڑ ریونیو تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایم یو سی ٹی سے 2ارب ریونیو وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کے الیکٹرک سے واجبات کی وصولی کی مد میں 1ارب 85 کروڑ روپے ریونیو وصولی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ فنانس و اکاؤنٹس سے 75کروڑ ، ایڈورٹائزمنٹ کی مد میں 50کروڑ روپے ریونیو وصولی تخمینہ لگایا گیا۔ دوسری جانب سٹی کونسل میں اپوزیشن نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے بجٹ پر 10نکاتی وائٹ پیپر جاری کردیا۔ وائٹ پیپر کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کابجٹ مکمل طورپراخراجاتی بنیاد پربنایا گیا ہے اور بجٹ میں ریونیو کے تمام اکاؤنٹس کا تخمینہ انتہائی کم لگایا گیاہے۔ وائٹ پیپر کے مطابق کراچی کی246 یونین کمیٹیز کے لیے ایک بھی نئی اسکیم کو شامل نہیں کیاگیا، منتخب چیئرمین و کونسل اراکین کے لیے کسی قسم کا ترقیاتی فنڈ نہیں رکھاگیا۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ صوبائی، ورلڈ بینک قرضوں کیعلاوہ بلدیہ کوئی خاطرخواہ ترقیاتی فنڈ رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے، بلدیہ کے بجٹ کا 82 فیصد حصہ قرضوں اور گرانٹس کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ وائٹ پیپر کے مطابق چارجڈ پارکنگ کی مد میں سالانہ آمدنی صرف 15.9 کروڑ روپے ظاہرکی گئی ہے جبکہ شہر بھر میں 83 پارکنگ سائٹ موجود ہیں، فی سائٹ اوسط یومیہ آمدنی محض 6 ہزار روپے بن رہی ہے۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ اشتہارات کی مد میں اس سال آمدنی میں محض ایک لاکھ روپے کا اضافہ ظاہرکیا گیا ہے جبکہ شہر میں 106 شاہراہیں بلدیہ کے ماتحت ہیں، ان تمام شاہراہوں پر اشتہارات لگائے جاتے ہیں، اس کی کل آمدن انتہائی کم ظاہر کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ہاکس بے پر 99 ہٹ ہیں، شہر بھر میں11 پیٹرول پمپ موجود ہیں، بجٹ میں اس کی کوئی واضح تفصیل نہیں۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک سے ایک ارب 85کروڑ روپے بلدیہ نے گزشتہ سال وصول کرنے تھے، اس سال بھی اس رقم کو برقرار رکھا گیا ہے، مرتضیٰ وہاب جواب دیں کے الیکٹرک سے اتنی بڑی رقم کیوں وصول نہیں کی گئی۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ کراچی میڈیکل کالج کے لیے ایک مرتبہ پھر وہی 50 کروڑ کی روایتی گرانٹ رکھی گئی ہے، رواں سال اس کالج کویونیورسٹی بننا ہے، اتنے کم بجٹ سے یہ کام ممکن نہیں۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر اور نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کوکبھی کچھ نہیں دیا اور نہ سندھ کااحساس محروم ختم کیا،کراچی کے میئر کٹھ پتلی ہیں بلدیاتی اداروں اور کراچی کے وسائل پر سندھ حکومت قابض ہے،کے ایم سی کے بجٹ میں کراچی کے لیے کوئی ترقیاتی اسکیم نہیں،اراکین سٹی کونسل سے کوئی بجٹ تجاویز نہیں لی گئیں اور نہ ہی یوسیزکے لیے کوئی ترقیاتی اسکیم رکھی گئی۔کراچی کی تاریخ کے ناکام ترین فرمیئر کے بدترین اور وژن لیس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،قبضہ میئر کراچی دونمبری اور جعلسازی سے میئر کی کرسی پر بیٹھے ہیں وہ وقت جلد آنے والاہے جب شہر کراچی کاحقیقی میئر اس کرسی پر ہوگا۔ قبضہ میئر واٹر بورڈ کے چیئر مین بھی ہیں وہ بتائیں کہ شہر میں پانی کے بدترین بحران اور شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے انہوں نے کیا کیا ؟ان خیالات کااظہار انہوں نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر مبشر الحق اور جماعت اسلامی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی اور قاضی صدر الدین اور میڈیا کوآرڈی نیٹر سید جوادشعیب سمیت اراکین سٹی کونسل کے ہمراہ سٹی کونسل میں بجٹ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ میئر کی کرسی عدالتی فیصلے سے مشروط ہے اور قبضہ میئر کی پوزیشن پر اختلاف کے باوجود ان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن میئر کراچی آج بھی خود کو ایڈمنسٹریٹر سمجھتے ہیں یہ ون مین شوکے عادی ہیں اور آمرانہ طرز عمل سے ایوان کی جمہوری کارروائی کو بلڈوز کرتے ہیں۔ میئر کراچی پی ٹی آئی کے مجبور دھڑے کے سہارے اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو احتجاج کے سوا کوئی جمہوری آپشن باقی نہیں رہ جاتا۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ میئر نے اپنے دور میں 15 گٹر کے ڈھکن اور آج بجٹ دستاویزات کے ساتھ بیگ کے سوا اراکین کونسل کو کچھ نہیں دیا،دوبارہ کہتاہوں میئر کراچی تاریخ کے بدترین میئر ہیں ، افسوس کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی والے جھوٹ بولنے کو سیاست سمجھتے ہیں، بجٹ اجلاس قریب آیا تو امید تھی سب سے تجاویز لی جائیں گی مگر افسوس نہ کوئی اجلاس بلایا گیا نہ ہی مشاورت کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ بطور اپوزیشن لیڈر انہیں بات چیت کے لیے بلایا گیا۔ انہوں نے اپنا موقف رکھا اور کہا کہ تمام پارلیمانی لیڈرز کا مشاورتی اجلاس طلب کیاجائے۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ اس بدترین بجٹ میں شہر کے لیے کوئی ترقیاتی بجٹ نہیں۔تمام پرانی اسکیموں پر کام ہوگا۔ ایم یو سی ٹی سے چار ارب ریونیو آئے گاکا کہہ کر کونسل سے منظوری لی لیکن بجٹ میں دوارب رکھے گئے ۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے تھے میں ان کے متعلق پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرناچاہتا تھا لیکن میئر کراچی نے نامناسب رویہ اختیار کیااور بات کرنے کی اجازت نہ دی۔ پیپلزپارٹی نے کبھی کراچی کو کچھ دیا اور نہ سندھ کو کچھ دے سکی،وزارت بلدیات میں صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کی سیاست ہورہی ہے،شہر میں بدترین بلدیاتی نظام نافذ ہے،جو ادارے بلدیات کے ماتحت تھے وہ چھین لیے گئے۔سالڈ ویسٹ، واٹر کارپوریشن ،ایم ڈی اے ،کے ڈی اے ،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سب پر سندھ حکومت کا قبضہ ہے۔انہوں نے کہاکہ دعوی کیا جارہاہے یہ ٹیکس فری بجٹ ہے۔اگر ٹیکس فری بجٹ ہے تو گزشتہ اجلاس میں ایم یوسی ٹی اور ٹول ٹیکس کامنی بجٹ اس میں کس نے شامل کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ اربوں اور کھربوں روپے کا قرض لیا گیا مگر وہ کراچی پر نہیں لگا۔ان کاکہناتھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ٹاؤن میں ماڈل پارک ہو۔پورے کراچی میں گرین بیلٹس بننی چاہیے اسپتالوں کی صورتحال بہتر بنائی جائے لیکن اعداد وشمار کے گورکھ دھندے کے سوا بجٹ میں کچھ نہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے