English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، نیب کو ختم کریں ، بلاول زرداری

about public issues

اسلام آباد : چیئرمین پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے ، نیب کے سب سے بڑے حامی بھی شاید آج کل نیب کے خاتمے کی حمایت کریں گے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا، جس میں بجٹ پر بحث کی گئی ۔

مالی سال 25-2024 کے بجٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی فکر ہے عوام کو یہ فکر نہیں کہ کس کو جیل میں بھیجا جائے کس کو رہا کیا جائے ۔

 سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کو آج فکر نہیں کہ کون جیل میں تھا کون ہے کون جیل جائے گا ۔ عوام ہم سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ میثاق جمہوریت کے بغیر عوام کی امید پوری نہیں ہو سکتی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو نیب سے ایس آئی ایف سی کی طرح مستثنیٰ کرا دیں، نیب کے سب سے بڑے حامی بھی شاید آج کل نیب کے خاتمے کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو بجٹ پر اپوزیشن سے بھی بات کرکے ان کی تجاویز لینی چاہیے تھی، اس سے اچھا تاثر جاتا، شہباز شریف نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، پاکستان کا لانگ ٹرم مسئلہ اس کے بغیر حل نہیں ہوگا، یہ چارٹر سب کے مشورے سے بنانا ہوگا، کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوگا، ہمیں دنیا کو پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان نے اپنی معیشت کیلئے 20 سالہ پلان بنایا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ دعا گو ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کو مشکل سے نکالنے میں کامیاب ہوں ۔ 5 سال پہلے 35 ہزار روپے میں ایک گھر کا گزر بسر ہو جاتا تھا ۔ مہنگائی میں کچھ کمی آرہی ہے امید ہے عوام اس کمی کو محسوس کریں گے ۔ اگر حکومت مہنگائی کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈ میں 27 فیصد اضافہ ہوا ۔ باجوہ ڈاکٹرائن سے 18ویں ترمیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خطرہ تھا ۔ ہمیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو آئینی تحفظ دینا تھا تا کہ کوئی سازش کامیاب نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر اپوزیشن نشانے پر تھی، 18 ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ اس دور میں صرف ایک ہی بات چل رہی تھی کہ اپوزیشن کو جیل میں بند کرنا ہے ۔

لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ تمام صوبوں اور لوگوں کا مسئلہ ہے ۔ اگر وفاقی حکومت تیار ہے مل کر اس منصوبے پر کام کریں تو ہمیں خوشی ہوگی ۔ واپڈا نے ہمیں مایوس کیا ہے کسی کی امیدوں پر پورا نہیں اترا۔ انرجی کے معاملات میں وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی درکار ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے