کوئٹہ (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بجلی قیمتوں، لوڈشیڈنگ میں کمی کریں، ہر ماہ بجلی بل عوام پرقہربن کرنازل ہوتے ہیں، صوبائی حکومت زمینداروں سے کیے گئے وعدے پوری کرے، اہل بلوچستان کو بجلی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ اور زمینداروں کو 6 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے، بلوچستان کے عوام کو سی پیک ودیگر پراجیکٹس اور وسائل کے ثمرات سے محروم جبکہ لٹیرے بدعنوان مالا مال ہو رہے ہیں، جماعت اسلامی زمینداروں کے احتجاج کی حمایت اور اس میں بھر پور حصہ لے گی، پارلیمنٹ میں بھی بلوچستان کے عوام و زمینداروں اور تاجروں سے زدیادتیوں کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان ماہانہ تنظیمی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایم پی اے و نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، صوبائی جنرل سیکرٹری زاہداختر بلوچ، نائب امراء مولانا عبدالکبیر شاکر، بشیراحمد ماندائی، ڈپٹی جنرل سیکرٹریز مرتضیٰ خان کاکڑ،اعجاز محبوب، مالیات سیکرٹری سلطان محمد محنتی، سیکرٹری اطلاعات عبدالولی خان شاکر و دیگر شریک تھے۔ اجلاس میں سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کاجائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گئے، اجلاس میں مرکزی تربیت گاہ 29، 30 جون میں اضلاع و صوبہ کے ذمہ داران شرکت، عزم استحکام آپریشن، زمینداروں کے احتجاج، استحکام تنظیم و تربیت مہم کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گئے، اجلاس میں کل بجلی قیمتوں و لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج اور زمینداروں سے اظہارِ یکجہتی کا فیصلہ کیا گیا، کیسکو واپڈادفاترکے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ شرکاء نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن طاقت کے استعمال سے عدم استحکام ومسائل، احساس محرومی نفرت و تعصب میں اضافہ ہوگا، جب بھی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو بے امنی، نفرت، تعصب اور مسائل میں اضافہ ہوا بلوچستان کو انہی آپریشنزنے معاشی طور پر تباہ اور عدم استحکام کا شکار بنا دیا ہے، وفاق کے مظالم زیادتیوں حقوق سے محرومی طاقت کے استعمال تجارت پر پابندی اور پولیس گردی کے خلاف مل کر جدوجہد کی ضرورت ہے، مہنگائی، بدعنوانی لاپتا افراد مقتدر قوتوں کی زیادتیوں چیک پوسٹوں بارڈر و ساحل پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے بھتا خوری، بلوچستان کے عوام کو اپنے وسائل پر اختیار نہ دینا سنجیدہ مسائل ہیں، اسلام آباد کے حکمرانوں، مقتدر قوتوں کو سنجیدگی سے ان مسائل کو حل کرنے بلوچستان کے عوام کی احساس محرومی ختم کرنے اور جائز آئینی حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے سنجیدگی واخلاص اورنیک نیتی اپنانی ہو گی۔
