قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے 18877 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظوری کرلیا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی اسمبلی نے 18ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کیں، وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
شق وار منظوری کے عمل کے دوران پیپلزپارٹی نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کی ترامیم واپس لیں جبکہ اپوزیشن نے فنانس بل کے خلاف ترامیم پیش کر دیں اور حکومت کی پیش کردہ ترامیم کی مخالفت کر دی۔
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2024-25 کے تقریبا 18 ہزار 887 ارب روپے حجم کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی، اپوزیشن نے بجٹ منظوری کے دوران ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ پیپلزپارٹی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی ترامیم واپس لے لیں جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں، گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 جبکہ گریڈ 17 سے لیکر گریڈ 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی دس روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 60روپے سے بڑھا کر70 روپے کر دی گئی،مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر پچاس روپے فی لیٹر لیوی عائد ہو گی،کتابوں، نیوز پرنٹ، امراض قلب کیلئے سرجیکل آلات، سسٹنٹس اور دیگر طبی آلات و اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے، برآمدات کیلئے مقامی خریداری پر بھی ٹیکس میں چھوٹ دیدی گئی ہے، بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شق منظور کی گئی ہے،اساتذہ، تحقیق، زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے مداخل پر ٹیکس استثنی برقرار رہیں گے۔
سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 1500 ارب روپے رکھا گیا ہے، سبسڈیز کا حجم 1363 ارب روپے اور مجموعی گرانٹس کا حجم 1777 ارب روپے ہو گیا، کم سے کم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کر دی گئی ہے، ٹیکس محصولات کا ہدف12970 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے، دفاعی ضروریات کیلئے 2122 ارب روپے کا بجٹ مختص کر دیا گیا جبکہ اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رکھنے کا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجٹ کی منظوری سے متعلق تحریک وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کی، جس پر اسپیکر نے ووٹنگ کی ہدایات جاری کیں۔اس کے بعد بجٹ کی شق وار منظوری دی گئی۔قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں فنانس بل کی شق وار منظوری کے عمل کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری اور آصفہ زرداری بھی اجلاس میں شریک رہے۔
بجٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا، ارکان نے نو،نو کے نعرے لگائے۔اپوزیشن نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا تیار کردہ اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔ حزب اختلاف کی ترامیم ایوان نے مسترد کر دیں جس پر اپوزیشن نے رائے شماری کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس دوران، 170 ارکان اسمبلی نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 84 ارکان نے لیوی میں کمی کی حمایت کی۔اس طرح پیٹرولیم لیوی میں کمی کی اپوزیشن کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں تاہم وزیر خزانہ نے خود ہی پیٹرولیم لیوی میں کمی کا اعلان کر دیا۔پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں دس روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔ جس کے بعد پٹرول اور ڈیزل پر لیوی ساٹھ روپے سے بڑھا کر ستر روپے کر دی گئی جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر پچاس روپے فی لیٹر لیوی عائد ہو گی۔
اسی طرح بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شق منظور کی گئی ہے۔قومی اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور کی گئی ہے۔ اراکین اسمبلی کا سفری الانس 10روپے کلومیٹر سے بڑھا کر25روپے کر دیا گیا ہے جبکہ اراکین پارلیمنٹ کے بچ جانے والے سالانہ فضائی ٹکٹس استعمال نہ ہونے پر منسوخ کرنے کی بجائے اگلے سال قابل استعمال ہوں گے۔
اس کے ساتھ سالانہ ٹریولنگ ووچرز کی تعداد کو 25 سے بڑھا کر 30کردیا گیا۔ قومی اسمبلی نے وزارت دفاع کے 2149 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد کے 4 مطالبات زر منظور کیے، انٹیلی جنس بیورو کا 18 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کا مطالبہ جب کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کے لیے ایک ارب 36 کروڑ روپے سے زائد کا مطالبہ بھی منظور کیا گیا۔ہوا بازی ڈویژن کے 26 ارب 17 کروڑ کے 3 مطالبات زر جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے7 ارب 26 کروڑ 72 لاکھ کے 2مطالبات زر بھی منظور کیے گئے۔قومی اسمبلی نے وزارت تجارت کے 22 ارب 73 کروڑ 57 لاکھ روپیکے 2 مطالبات زر، مواصلات ڈویژن کے 65 ارب 31 کروڑ 50 لاکھ 59 ہزار کے 4 مطالبات زر، دفاعی پیداوار ڈویژن کے 4 ارب 87 کروڑ 9 لاکھ 50 ہزار روپے کے 2 مطالبات زر منظور کیے۔
سیلز ٹیکس آڈٹ کے لیے ایف بی آر افسران کے اختیارات میں مزید اضافہ کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی، ایف بی آر کو سیلز ٹیکس آڈٹ کے لیے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔سیلز ٹیکس آڈٹ کے دوران انفرادی حیثیت یا مجاز اتھارٹی کو پیش ہونا ہوگا، سیلز ٹیکس آڈٹ میں چھ سال سے پرانا ریکارڈ ایف بی آر نہیں طلب کر سکے گا۔ٹیکس فراڈ پکڑنے کے لیے ایف بی آر میں ٹیکس فراڈ انویسٹیگیشن ونگ قائم کیا جائے گا۔ ونگ ٹیکس چوری، ٹیکس فراڈ، تحقیقات اور ٹیکس چوری روکنے کیلئے کام کرے گا۔
ونگ میں فراڈ انویسٹیگیشن یونٹ، لیگل یونٹ اور اکانٹنٹس یونٹ قائم ہوں گے جبکہ چیف انویسٹیگیٹر کیساتھ سینیئر انویسٹیگیٹر، جونیئر انویسٹیگیٹر و دیگر عملہ شامل ہوگا۔ ونگ میں سینیئر فرانزک اینالسٹ، سینیئر ڈیٹا اینالسٹ و دیگر اسٹاف بھی شامل ہوگا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس وقت کرنٹ اکانٹ خسارہ نیچے آ چکا ہے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر نو ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایاکہ وفاقی حکومت کا ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 12ہزار 970 ارب روپے مقرر کیا ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 4 ہزار 845 ارب روپے، براہ راست ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5ہزار 512 ارب روپے اور انکم ٹیکس کی مد میں 5ہزار 454 ارب 6کروڑ روپے کا ہدف مقرر ہے جبکہ گراس ریونیو کا ہدف 17ہزار 815ارب روپے مقرر کیا گی ، اس کے علاوہ سکوک بانڈ، پی آئی بی اور ٹی بلز سے 5 ہزار 142 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ جاری اخراجات کا ہدف 17ہزار 203ارب روپے، سود کی ادائیگی پر 9 ہزار 775 ارب روپے کیاخراجات ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے سال بجٹ خسارہ 8 ہزار 500 ارب روپے رہنے اور رواں مالی سال بجٹ خسارہ 8 ہزار 388ارب روپے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر بجٹ خسارہ 7ہزار 283ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خیبر پختونخوا کو کم منصوبے دینے اور فنڈز روکنے کا معاملہ اٹھایا جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے خود وضاحت کی۔سنی اتحاد کونسل کے رکن جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کی طرح میں بھی جیل میں تھا، ہماری حکومت آئی تو آپ کو بتائیں گے جیل کیا ہوتی ہے۔
آپ نے جو ہماری خواتین کے ساتھ کیا سود سمیت واپس کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد پر آ گئی ہے۔ ان کی تقریر کے دوران جے یو آئی اور پی ٹی آئی اراکین نے بجٹ کے خلاف نعرے لگائے۔اجلاس کے دوران جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے کہنے پر تیار کیا گیا ہے اور عوام پر بہت بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان بجٹ کو فارم 47 کا بجٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ غریب کش بجٹ ہے اور پہلی بار آٹے پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ حکومت نے 142 ترقیاتی مںصوبوں میں سے صرف 11 خیبرپختونخوا کے لیے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی کو صرف اس لیے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں کے عوام نے پی ٹی آئی کو کو ووٹ دیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ یہ بجٹ پاکستان کے عوام کے خلاف اقتصادی دہشت گردی ہے۔
یہ بجٹ ہٹ مین نے بنایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بنایا گیا ہے۔خیال رہے کہ 12 جون کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا تھا۔واضح رہے قومی اسمبلی میں مالیاتی بل کی منظوری سے فروری 2024 کے انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے۔

