واشنگٹن: ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ری پبلکن پارٹی کے اُمیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلے صدارتی مباحثے میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی بوچھاڑکردی۔
صدارتی مباحثہ ریاست جارجیا کے شہر ایٹلانٹا میں ہوا جس میں امریکی معیشت اور یوکرین جنگ سمیت دیگرموضوعات پر بات چیت کی گئی۔
سابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے دور میں معیشت کی جو حالت تھی اُس کی دنیا نے تعریف کی، ہم نے جس طرح کوویڈ کو سنبھالا ہمیں اُس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا۔
ٹرمپ نے جوبائیڈن پرا الزم لگایا کہ بائیڈن کی ملٹری پالیسیاں احمقانہ ہیں، میں بھی افغانستان سے انخلاء کر رہا تھا، لیکن جس طرح بائیڈن نے کیا وہ امریکی تاریخ کا شرمندہ ترین واقعہ تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ بائیڈن کے زیرِ صدارت امریکا کو دنیا میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا، بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو امریکا نہیں بچے گا۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر آج امریکا میں ایسا صدر ہوتا جس کی دنیا میں عزت ہوتی، تو روسی صدر پیوٹن کبھی یوکرین پر حملہ نہ کرتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں صدر ہوتا تو حماس کبھی بھی اسرائیل پر حملہ نہ کرتا۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس نے 6 جنوری کے حوالے سے تمام معلومات ختم کردیں، اس لیے مجھ پر الزام لگا، بائیڈن کے اپنے بیٹے کو سزا ہو چکی ہے، کل کو بائیڈن کو سزا ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ جب میں نے صدارت سنبھالی تو معیشت بہت خراب تھی، میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ملازمتوں میں اضافہ ہو، گھروں کی خریداری آسان ہو سکے۔
بائیڈن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹرمپ امریکی تاریخ کے واحد صدر تھے جن کے دور میں ملازمتوں میں کمی ہوئی، ٹرمپ کے ٹیکس چھوٹ سے صرف امیروں کو فائدہ پہنچا ہے۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے ہمارے منصوبے کو عالمی حمایت حاصل ہے، ٹرمپ وہ شخص ہے جو نیٹو سے بھی نکلنا چاہتا ہے، یہ ہارا ہوامایوس انسان ہے۔
امریکی صدر بائیڈن نے جواب میں کہا کہ میرے سامنے اس وقت واحد مجرم ٹرمپ ہے جسے عدالت سے سزا ہو چکی ہے، ٹرمپ کو ووٹ امریکی جمہوریت کے خلاف ووٹ ہوگا۔

