اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)قومی اسمبلی نے بجٹ 2024-25‘اراکین کی تنخواہوں ومراعات میں اضافہ اورالیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں پیپلز پارٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی مراعات بڑھانے سے متعلق ترمیم پیش کی۔پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے اراکینِ پارلیمنٹ کی مراعات بڑھانے کی ترمیم پیش کی، اراکین اسمبلی کا سفری الاؤنس 10روپے کلومیٹر سے بڑھا کر25 روپے کر دیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ تنخواہ و مراعات ایکٹ میں ترمیم فنانس بل کے ذریعے کی جا رہی ہے، ترمیم کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کے فضائی ٹکٹ استعمال نہ ہونے پر منسوخ کرنے کی بجائے اگلے سال قابلِ استعمال ہوں گے۔ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا اختیار وفاقی حکومت سے لے کر متعلقہ ایوان کی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، اس موقع پر اپوزیشن نے تنخواہوں اور مراعات سے متعلق پیپلز پارٹی کی ترمیم کی مخالفت کی، بعد ازاں پیپلز پارٹی کی پیش کی گئی ترمیم کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا، بل کے تحت الیکشن ٹربیونلز میں ریٹائرڈ ججز کو تعینات کیا جاسکے گا۔الیکشن ٹربیونلز کے قیام کا اختیار آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کی تحریک وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کی۔ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں نعرے لگائے۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججز پر بھی مشتمل ہوسکتے ہیں، وفاقی حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017 میں یہ ترمیم تجویز کی۔انہوں نے مزید کہا کہ حاضر سروس ججوں کے الیکشن ٹریبونلز فیصلوں میں تاخیر کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 25-2024 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی اسمبلی نے 18ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا۔پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر لیوی 50 روپے فی لیٹر، ہائی اوکٹین پر 70 روپے فی لیٹر اور ایک میٹرک ٹن ایل پی جی پر 30 ہزار روپے لیوی عائد کرنے کی منظوری دی۔مقامی سطح پر سولر پینل بنانیکے پارٹس کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، پارٹس آف سولر انورٹر اور پارٹس آف لیتھیم بیٹریز پر بھی سیلز ٹیکس چھوٹ کی ترمیم منظور کرلی گئی۔سیلز ٹیکس آڈٹ کیلیے ایف بی آر افسران کے اختیارات میں مزید اضافے کی ترمیم منظور کرلی گئی، ایف بی آر کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلیے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔
