
نیروبی (انٹرنیشنل ڈیسک) کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے کے متنازع بل کی واپسی کے بعد بھی عوامی مظاہرے جاری ہیں۔ جمعہ کے روز نیروبی اور دیگر شہروں میں سیکڑوں نوجوان مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور صدر ولیم روٹو سے مستعفی ہونے اور ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے نیروبی میں پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات کر دی گئی جبکہ کینیا کے صدارتی دفتر اور پارلیمان جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ۔ احتجاج کے دوران کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ مشتعل شہریوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا،جواب میں پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کی۔
