اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)ملک میں سولرائزیشن کے فروغ کے لیے وفاقی بجٹ میں سولر پروڈکشن کی مشینری، پلانٹ اور خام کی درآمد پر متعدد رعایتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔تاہم اس حوالے سے توانائی ماہرین کہتے ہیں سولر کی پیداوار ہفتوں یا مہینوں میں ممکن نہیں، بلکہ پالیسی فریم ورک اور ریگولیٹر کا قیام ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں سولر انڈسٹری کے قیام کی امید پیدا ہوگئی ہے، تاہم غیرملکی سرمایہ کاری بڑا چیلنج ہے۔ ماہر توانائی اور درآمد کنندہ شبیر منشا کے مطابق سولر سے متعلق پالیسی تو بن رہی ہے، لیکن سولر کی تیاری کے لیے بنیادی ڈھانچہ کی ضرورت ہے۔
