English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہش منی کیس میں ٹرمپ کو سزا سنانے کا فیصلہ ستمبر تک مؤخر

نیویارک کی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں سزا سنانے کا فیصلہ ستمبر کے وسط تک مؤخر کر دیا ہے۔

نیویارک کی سپریم کورٹ کے جج جان مرچن کی جانب سے 11 جولائی کو ٹرمپ کو سزا سنائی جانی تھی۔ تاہم جج نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سزا سنانے کے فیصلے کو 18 ستمبر تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے موقع پر آیا ہے جب ٹرمپ رواں برس پانچ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

ٹرمپ پر سابق پورن اسٹار کو رقم دینے سمیت مالی لین دین سے متعلق 34 الزامات کا سامنا ہے جسے ‘ہش منی’ کیس کہا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں نیویارک کی ایک جیوری نے سابق صدر کو تمام 34 الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔


سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مئی 2024 کو نیویارک کے ٹرمپ ٹاور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مئی 2024 کو نیویارک کے ٹرمپ ٹاور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔

امریکی نظامِ قانون کے تحت جیوری کسی بھی ملزم پر فردِ جرم عائد کرتی ہے اور اس کے بعد عدالت فردِ جرم کی روشنی میں سزا سناتی ہے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے پیر کو اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ٹرمپ کو سرکاری حیثیت میں کیے گئے اقدامات پر عدالتی کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ البتہ اس فیصلے کا اطلاق ایسے اقدامات پر نہیں ہوتا جو غیر سرکاری تصور ہوتے ہیں۔

ٹرمپ کو سزا سنانے کا فیصلہ مؤخر ہونے پر کیس کے پراسیکیوٹر جوشوا اسٹینگلان نے فاضل جج کو منگل کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ پراسیکیوٹرز سمجھتے ہیں کہ مدعا علیہ کے دلائل کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تاہم سزا سنانے میں تاخیر پر پراسیکیوٹرز کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے