حب (نمائندہ جسارت) اسسٹنٹ پروفیسر سرجن ڈاکٹر منظور احمد بلوچ نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کا اول دل صنعتی شہر ضلع حب ہے، یہاں سے حکومت بلوچستان حب شہر کی صنعت اور شب بریکنگ یارڈ سے اربوں روپے ٹیکس کی مد میں لے رہی ہے لیکن اس کی بنسبت سابقہ حکومتی اہم و اعلیٰ شخصیات نے ضلع کے عوامی اہم مسائل پر خصوصاً کوئی بھی اہمیت اور ترجیح نہیں دی، صنعتی شہر حب کے عوام کو تمام بنیادی سہولیات سے اس جدید دور میں بھی محروم رکھا گیا ہے، صنعتی شہر ضلع کا سب سے بڑا سول اسپتال جام غلام قادر تمام بنیادی سہولیات سے آج بھی محروم ہے، سول اسپتال جام غلام قادر 1996 میں بنایا گیا تھا جو آج تک اس جدید دور میں بھی ٹراما سینٹر اور آئی سی یو وارڈ سمیت جدید ترین سہولیات سے آراستہ نہیں کیا گیا، حکومت بلوچستان کی زیر نگرانی میں دارالحکومت کوئٹہ شہر میں قائم بی ایم سی سول اسپتال سمیت و دیگر اسپتال طرز کی طرح صنعتی شہر ضلع حب شہر کے سول جام غلام قادر میں ٹراما سینٹر سمیت جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے، بلوچستان کے اول دل صنعتی شہر ضلع کی عوام کی اُمیدیں موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز علی بگٹی سے وابستہ ہیں، اُمید ہے کہ وہ اپنے عوام کو اپنے سے کبھی مایوس اور نہ اُمید نہیں کریں گے، عوام کی دیرینہ پریشانی کو ضرور مدنظر رکھتے ہوئے عوام کے لیے سول اسپتال جام قادر مسائل کو اہمیت دے کر اسے اپنے ترجیحات شامل کرکے اس کے لیے ٹراما سینٹر کے قیام اور منظوری ضرور دیں گے، اس کے علاوہ ضلع میں شہر و دیگر بنیادی مسائل سے متعلق بھی اے اہمیت دے کر اپنے تمام ترقیاتی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے شہر کو ترجیح دیں گے، صنعتی شہر کے عوام کے لیے سول اسپتال جام غلام قادر میں ٹراما سینٹر اور اس کی اہمیت کتنی ضروری ہے، ضلع کے صنعتی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ملٹی پل آبادی پر مشتمل ہے، تقریباً کوئٹہ کے بعد حب شہر ایک بڑا شہر ہے، دن بہ دن اس کی آبادی بڑھتی جارہی ہے اور سندھ اور بلوچستان کا بارڈر ایریا بھی ہے اور کاروبار کے حوالے سے بلوچستان کے پہلے نمبر اہمیت یافتہ شہر میں ضلع حب شہر شمار ہوتا ہے اور جانا بھی جاتا ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت زیادہ اس کو صنعت کے حوالے سے اہمیت اور سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کراچی ٹو کوئٹہ اور گوادر، پسنی، ارماڑہ، تا دریجی اور درگاہ شاہ نورانی سمیت حب سے لے کر وڈھ اور نال سے لے کر حب تک نیشنل ہائی وے پر جتنے بھی ٹریفک مختلف حادثات اور واقعات ہوتے ہیں، ان تمام زخمیوں کو سول اسپتال جام غلام قادر میں لایا جاتا ہے، لیکن سول اسپتال جام غلام قادر میں ٹراما سینٹر اور آئی سی یو وارڈ کی عدم دستیابی اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز ٹائم ضائع کیے بغیر آنے والے تمام تشویشناک حالت میں مریضوں کو مزید علاج اور معالج کے لیے ٹراما سینٹر کراچی بھیج دیتے ہیں جو عوام کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔
