پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی مقبولیت سے مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق نیشنل ریلی پارٹی کی رہنما لی پین حجاب کی سخت مخالف ہیں اور وہ اپنے بیانات میں عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ادھر نیشنل ریلی پارٹی کے صدر جورڈن بارڈیلا نقاب کو امتیازی سلوک کی جڑ قرار دے چکے ہیں۔ انتخابات میںفتح کی صورت میں وہ ممکنہ طور پر وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے مخالف جماعتیں متحدہو گئیں اور دائیں بازو مخالف ووٹوں کی تقسیم روکنے کے لیے 200 سے زائد امیدوار انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق نیشنل ریلی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے مزید امیدواروں کی جانب سے دستبرداری پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر عمانویل ماکروں کی سینٹرسٹ کیمپ اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد نے اپنے باہمی اختلافات پس پشت ڈالتے ہوئے انتخابات کے دوران حکومت بنانے کے لیے ایوان میں 289 نشستیں حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں فرانسیسی عوام نے امیگریشن مخالف دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی اور اس کے اتحادیوں کو ووٹ دے کر پہلی پوزیشن پر براجمان کیاتھا۔ صدر ماکروں کی جماعت لیفٹ ونگ بلاک کے بعد تیسرے نمبر پر رہی۔ انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران ایسے حلقے جہاں کوئی امیدوار واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا وہاں 3جماعتوں میں ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ نیشنل ریلی کو ہوا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ماکروں اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے ووٹوں کی تقسیم روکنے کے لیے اپنے امیدواروں کی دستبرداری کا حربہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو کر نیشنل ریلی کو حکومت بنانے سے روک سکتا ہے۔
