English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کے الیکٹرک کے علاوہ دس اور بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیز ہونی چاہیے : مصطفٰی کمال

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی میں کے الیکٹرک کے علاوہ دس اور بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیز ہونی چاہیے، پاکستان معاشی بحران میں مبتلا ہے اور تمام لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم بجلی کے بحران پر اپنا مؤقف سامنے رکھنا چاہتی ہے،کے الیکٹرک کی پرائیویٹائزیشن کا تجربہ زیادہ اچھا نہیں ہے، 2 ہزار 600 ارب کے ہم پر گردشی قرضے ہیں، ہمیں اس سال 1700 ارب پاور کمپنیز کو دینے ہیں، پاکستان معاشی بحران میں مبتلا ہے اور تمام پاکستانی مایوسی کا شکار ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کے الیکٹرک کے حوالے سے پرائیویٹائزیشن کو ٹھیک کرنا ہوگا ،ملک کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ پوری قوم متاثر ہے، ایسے حالات میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے مگر 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، یہ نظام لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ آپ اپنے لاسز کو بچانے کے لیے بجلی کی پیداوار کم کررہے ہیں، جب زیادہ بجلی دیتے ہیں تو زیادہ لاسز ہوتے ہیں ،جو بل آتا ہے اس میں 71 فیصد کیپیسٹی چارجز کے پیسے ہیں، ساری کرپشن کے پہسے وہ دے رہا ہے جو بجلی کا بل دے رہا ہے، سفید پوش انسان بجلی کا بل دینے سے قاصر ہے۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کے علاوہ دس اور بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیز ہونی چاہیے، دنیا بھر میں بجلی کی کمپنیوں کے حوالے سے لوگوں کے پاس آپشنز ہیں، آج ہمیں اچھے فیصلوں اور درست سمت کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے