ابوظبی:آزادیٔ فلسطین کا نعرہ لگانے پر متحدہ عرب امارات میں طالب علم کو ملک بدر کردیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اماراتی انتظامیہ کی جانب سے ایک طالب علم کو ملک سے نکال دیا گیا، جس سے متعلق بتایاجا رہا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر اپنی گریجویشن کی تقریب میں فلسطین کی آزادی کا نعرہ بلند کیا تھا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ابوظبی میں نیویارک یونیورسٹی میں گریجویشن تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایک طالب نے اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے روایتی رومال ‘کوفیا’ پہن کر اپنی ڈگری وصول کرنے کا ارادہ کیا اور اسٹیج پر پہنچ کر اس نے فری فلسطین (آزادئ فلسطین) کا نعرہ لگایا، جس پر وہاں موجود افراد نے تالیاں بجا کر طالبعلم کی حوصلہ افزائی کی۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے طالبعلم کی شناخت نہیں بتائی گئی، تاہم دیگر ذرائع سے اس کا نام جیکولین ہینیک معلوم ہوا ہے، جسے انتظامیہ نے آزادیٔ فلسطین کا نعرہ لگانے کے بعد پولیس کے حوالے کردیا تھا، طالب علم کی شہریت کے حوالے سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
بعد ازاں یونیورسٹی سے وابستہ ایک امریکی پروفیسر نے بھی واقعے کی تصدیق کی ہے۔
دیگر عالمی ذرائع میں بھی واقعے سے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ دو ماہ قبل (مئی میں) پیش آیا تھا، جس کے بعد طالب علم کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا بعد ازاں اسے متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کردیا گیا۔
دوسری جانب اماراتی حکومت، ابوظبی انتظامیہ یا یونیورسٹی کی جانب سے اس واقعے سے متعلق کوئی بیان یا وضاحت و تردید جاری نہیں کی گئی ہے۔

