
واشنگٹن /دوحا /غزہ /انقرا (اے پی پی /صباح نیوز/مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ اب ختم ہونی چاہیے اور جنگ کے بعد اسرائیل کو اس علاقے پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ان کے غزہ میں جنگ بندی کے فریم ورک پر فریقین نے اتفاق کیا تھا لیکن معاہدہ طے پانے کے لیے ابھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس فریم ورک پر اب دونوں فریق متفق ہیں اس لیے میں نے اپنی ٹیم کو مشرق وسطی میں بھیجا ہے تاکہ تفصیلات کو آگے بڑھایا جا سکے‘ ہم پیش رفت کر رہے ہیں اور میں یہ معاہدہ طے کرنے اور اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہوں، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ حماس کے ٹیلی گرام اکائونٹ پر دیے گئے بیان میں اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں معلومات دی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ابھی تک ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات میں کسی پیش رفت کے حوالے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی‘ اسرائیل نے مذاکرات کے اس دور کو ناکام بنانے کے لیے ہمیشہ کی طرح سست روی کی پالیسی پر عمل درآمد کیا لیکن فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتیں اس جال میں نہیں آئیں گی۔ اسرائیلی فوج کے آپریشن کے بعد کیے گئے امدادی کاموں کے دوران تباہ حال عمارتوں کے ملبے سے خواتین اور بچوں سمیت 60 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ کے مشرقی ضلع شجاعیہ میں اسرائیلی فوج ایک ہفتے کے مسلسل محاصرے اور بمباری کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے جس کے بعد اس علاقے میں فلسطین کی ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاموں کا سلسلہ شروع کیا جس کے دوران تباہ حال علاقے میں ملبے کے ڈھیر سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اسرائیلی فوج نے300 سے زیادہ رہائشی عمارات اور 100 سے زیادہ کاروباری مراکز کو تباہ کیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ جب تک فلسطین میں جامع اور پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا‘ ترکیہ ناٹو کی اسرائیل کے ساتھ تعاون کی کوششوں کو قبول نہیں کرے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ناٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر واشنگٹن میں نیوز کانفرنس میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حماس اور اسرائیل غزہ میں اقتدار عبوری حکومت کو سونپنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حماس اور اسرائیل میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں دونوں میں سے کوئی بھی غزہ پر حکومت نہیں کرے گا‘ ایک عبوری حکومت قائم کرکے معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دوران فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فلسطینی فورس اس پٹی پر حکومت کرے گی۔ حماس نے غزہ میں سویلین حکومت اور الفتح یا فلسطینی اتھارٹی کے افراد پر مشتمل فورس کے حق میں غزہ کی حکمرانی چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق تفصیلات طے ہونا ابھی باقی ہیں۔ غزہ کی تعمیر نو پر بھی دونوں فریقین میں بات چیت جاری ہے۔ اکتوبر2023ء سے غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 38 ہزار سے زاید فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
