English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلادیش حکومت قیام امن میں ناکام، کرفیو کے دوران فوج کو مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم

ڈھاکا:بنگلادیش میں حسینہ واجد کی حکومت ملک میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم  کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے فوج کو سڑکوں پر اتار دیا ہے۔ حکومت نے امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلادیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کا احتجاج وقت کے ساتھ ساتھ پہلے کے مقابلے میں مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حکومت مخالف احتجاج کو خاموش کرانے کے لیے حسینہ واجد حکومت نے ایک جانب ملک بھر میں کرفیو کا نفاذ کردیا ہے تو دوسری طرف فوج کو احتجاج کرنے  والوں پر قیام امن کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا ہے۔

بنگال حکومت کی جانب سے تاحکم ثانی اتوار کی صبح 10 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا ہے، اس دوران ملک بھر میں فوج کو سڑکوں پر گشت کے نام پر احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے، انہیں گرفتار کرنے اور  مظاہرہ کرنے پر گولی مارنے کے لیے اتار دیا گیا ہے۔فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی جانب سے گولیاں چلا دی گئیں، جس میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں، تاہم مقامی سطح پر انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند ہونے کی وجہ سے اطلاعات تک رسائی میں مشکلات ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ 5 دن سے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 125 سے متجاوز ہو چکی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر صرف پولیس کو مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے  کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، تاہم  بعد ازاں بارڈر گارڈ فورس کو پولیس کی معاونت کے لیے طلب کرلیا گیا تھا، جس کے بعد احتجاج کی شدت میں اضافے کو دیکھتے ہوئے عوامی لیگ کی حکومت نے ملک میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا اور سڑکوں پر فوج کو تعینات کردیا ہے۔

حکومت کی جانب سے احتجاج کنٹرول کرنے کے نام پر کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کو بند کرنے کے لیے انٹرنیٹ، میسجز اور دیگر سہولیات معطل کردی گئی ہیں جب کہ بیرون ملک ٹیلی فون سروس بھی بند کردی گئی ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ کی بندش کے سبب ویب سائٹس اور سوشل میڈیا بھی خاموش ہوکر رہ گیا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش میں 1971ء کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری ملازمتوں میں 30 فی صد کوٹہ  دیے جانے کے  خلاف احتجاج کی لہر جاری  ہے۔ اس دوران مظاہرے کرنے والے طلبہ اور پولیس کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کے طلبہ ونگ کے مابین پرتشدد جھڑپیں اور تصادم ہو رہے ہیں۔

بنگلادیش میں سرکاری ملازمتوں  میں کوٹہ سسٹم 2018ء میں ختم کردیا گیا تھا، تاہم گزشتہ ماہ عدالت نے اسے بحال کرتے ہوئے 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کے لیے مختص 30 فی صد کوٹے کو بحال کرنے کا فیصلہ دیا ہے، جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ بنگلادیش میں سرکاری ملازمتوں کا بیشتر حصہ (56 فی صد) کوٹے کی نذر ہو جاتا ہے، جس میں 30 فی صد 1971ء کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں کے لیے اور 10 فی صد خواتین اور 10 فی صد مخصوص اضلاع کے شہریوں کے لیے مختص ہے۔

ملک میں احتجاجی لہر کے دوران وزیراعظم حسینہ واجد نے سیاسی فوائد سمیٹنے کے لیے کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو رضاکار کہہ کر مخاطب کیا ہے، جس پر مظاہرے کرنے والے طلبہ مزید مشتعل ہیں۔ واضح رہے کہ بنگلادیش میں رضاکار 1971ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والوں کو کہا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے