بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے باعث خراب ہونے والے حالات نے دوسروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی طلبہ کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش کے چند شہروں میں مجموعی طور پر 130 سے زائد طلبہ موجود ہیں۔
ڈھاکہ میں 48، چٹوگرام (چٹاگانگ) میں 31، میمن سنگھ میں 9، کومیلا میں 8، راج شاہی میں 7، سلہٹ میں 4، بوگرا میں 4، غاری پور میں 4، منی گنج میں 2 جبکہ دیناج پور اور رنگ پور میں ایک ایک پاکستانی طالب علم موجود ہے۔
ڈھاکہ اور دیگر بنگلہ دیشی شہروں میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے لیے مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں کیونکہ اُنہیں کہیں سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔ شدید بے یقینی کی کیفیت نے تمام معاملات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ لوگوں کے لیے منتقل ہونا بھی دردِ سر ہے۔
ڈھاکہ کے ایک ہاسٹل کے احاطے میں پھنسے ہوئے طلبہ میں سے ایک حذٰیفہ نے ایک پاکستانی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ وسائل ختم ہوگئے ہیں اور کہیں سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔ اس کا کہنا تھا کہ بنگلہ کے حالات بگڑتے ہی جارہے ہیں۔ ایسے میں خوراک کا حصول بھی دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کے تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات میں ایک بڑی خبر یہ آئی ہے کہ بنگلہ دیش سے متصل بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی نے اعلان کیا ہے کہ اگر پڑوسی ملک کے خراب حالات سے تنگ آکر لوگ آئے تو اُن کی حکومت اُنہیں پناہ دے گی۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے جبکہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکمران ہے۔ دونوں جماعتوں میں ٹھنی ہوئی ہے۔ ممتا بینرجی کا یہ بیان بی جے پی کے لیے تازیانے سے کم نہیں۔ جب بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے حوالے سے شدید مخالفت کی لہر چل رہی تھی تب ممتا بینرجی نے غلام علی کو کولکتہ بلواکر کنسرٹ کروایا تھا۔

