ڈھاکا:بنگلادیش میںگزشتہ ایک ہفتے سے جاری متنازعہ کوٹا سسٹم کے خلاف طلبہ کاانقلابی احتجاج کامیابی سے ہمکنار ہوا۔مقامی رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے حکومتی ملازمتوں میں کوٹا 7 فیصد تک محدود کر دیاجبکہ علیحدگی کی تحریک میں اپنا حصہ ڈالنے والوں کے خاندانوں کاحکومتی ملازمتوں میں 30 فیصد کوٹا بحال کرنے کا ہائیکورٹ کا حکم یکسرمعطل کردیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کی عدالت عظمیٰ نے طلبہ کے انقلابی احتجاج کے پیش نظر حکومتی شکست کوتسلیم کرتے ہوئے ایک تحریری فیصلہ جاری کردیا۔فیصلے کے مطابق 93 فیصد سرکاری ملازمتیں اوپن میرٹ پر ہوں گی، صرف 5 فیصد 71ءکی جنگ میں حصہ لینے والے فوجی خاندانوں کو اور 2 فیصد ملازمتیں دیگر کیٹگریز کودی جائیں گی۔
واضح رہے کہ بنگلادیش میں کوٹا سسٹم کے خلاف ڈھاکا یونیورسٹی سے شروع ہونے والا طلبہ کا انقلابی احتجاج ملک گیرصورت اختیار کر گیا تھا۔گزشتہ ایک ہفتے میںطلبہ کا انقلابی احتجاج اور سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 133 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ حکومت نے طلبہ کے انقلابی احتجاج کوکچلنے کے لیے فوج کو طلب کر کے کل سے کرفیو نافذ کر رکھاتھا۔

