امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار نائب صدر کملا ہیرس نے رائے عامہ کے جائزوں میں ری پبلکن امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل کرلی ہے۔
یہ برتری دو پوائنٹس سے زیادہ کی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور اِپسوسِز کے سروے میں ووٹرز نے کملا ہیرس پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے تجربے کے باوجود 56 فیصد امریکی ووٹرز کا کہنا ہے کہ کملا ہیرس کا ذہن زیادہ تیز ہے اور وہ زیادہ معاملہ فہم ہیں۔
یہ سروے ری پبلکن نیشنل کنونشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو باضابطہ امیدوار نامزد کرنے اور صدر بائیڈن کی طرف سے انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کے اعلان کے بعد کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک اس سروے کے نتائج بہت حیرت انگیز ہیں کیونکہ کسی کو یقین نہیں آرہا کہ ٹرمپ کے مقابلے میں کملا ہیرس کو اِتنی تیزی سے قبول کرلیا جائے گا۔
کملا ہیرس خاتون ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین ووٹرز پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وہ آج مِلکواکی جارہی ہیں جہاں وہ انتخابی اجتماعات سے خطاب کریں گی۔ اُن میں غیر معمولی اعتماد پایا جاتا ہے اور یہ اعتماد اس لیے بھی ہے کہ وہ نائب صدر ہیں۔
اگر جو بائیڈن اپنی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے دوران فرائضِ منصبی ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو کملا ہیرس ملک کے صدر کی حیثیت سے بھی کام کرسکتی ہیں۔
رائٹرز اور اِپسوسز کے اس سروے کے لیے 1018 رجسٹرڈ ووٹرز سمیت 1241 امریکی شہریوں سے آرا طلب کی گئیں۔

