برطانیہ کی ایک عدالت نے انقلابی مبلغ انجم چودھری کو دہشت گردی تنظیم کی قیادت کرنے کے جرم کا مرتکب قرار دیا ہے۔ انہیں گزشتہ سال 17 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سزا 30 جولائی کو سنائی جائے گی۔
انجم چودھری پر الزام تھا کہ انہوں نے 2014 سے کالعدم شدت پسند گروپ المہاجرون کی قیادت اور سرپرستی جاری رکھی اور اِس کی آن لائن راہ نمائی کرتے رہے۔ المہاجرون کو 2010 میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
انتہا پسند تنظیم داعش کی حمایت اور مدد کرنے کے جرم میں انجم چودھری کو 2016 میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ڈھائی سال بعد 2018 میں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔
انجم چودھری نے گزشتہ برس گرفتاری کے بعد سماعت کے دوران عدالت کے روبرو کہا کہ میرا اور المہاجرون کا معاملہ کیوِن کیگن ایفیکٹ والا ہے۔ لوگ کیوِن کیگن کو دیکھتے ہی کہتے ہیں کہ وہ لِور پول کے لیے فٹبال کھیلتا ہے۔ جب لوگ مجھے دیکھتے ہیں تو اُن کے ذہن کے پردے پر فوراً المہاجرون کا نام ابھرتا ہے۔
57 سالہ انجم چودھری پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ وہ نیو یارک کی اسلامک تھنکرز سوسائٹی کے تحت خطاب کیا کرتے ہیں۔ مخالفین اور وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسلامک تھنکرز سوسائٹی دراصل المہاجرون ہی کا دوسرا نام ہے۔ انجم چودھری کے خلاف لندن میٹروپولیٹن پولیس، نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ اور رائل کینیڈین ماؤنٹیڈ پولیس نے مل کر تحقیقات کی۔
لندن میٹروپولیٹن پولیس کی انٹی ٹیرر ازم کمانڈ کے سربراہ ڈومینک مرفی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ المہاجرون عالمگیر نوعیت کی تنظیم ہے جس کے متعدد ارکان نے دنیا بھر میں حملے کیے ہیں اور ان حملوں کی تحریک بنیادی طور پر انجم چودھری کی تقریروں سے ملتی رہی ہے۔

