English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ممتا بینرجی کے ریمارکس نے بنگلہ دیش کو سیخ پا کردیا

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی کے ریمارکس نے بنگلہ دیش کی حکومت کو سیخ پا کردیا ہے۔

ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ممتا بینرجی کا طلبہ تحریک کے حوالے سے بیان بنگلہ دیش کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

ممتا بینرجی نے دو دن قبل کہا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کے حالات زیادہ خراب ہونے پر لوگ وہاں سے آئے تو مغربی بنگال کی حکومت اُنہیں بخوشی پناہ دے گی۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔ اِس سے قبل مغربی بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت ہے۔ مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی رہی ہے۔

ممتا بینرجی مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے خلاف جانے کے حوالے سے غیر معمولی شہرت رکھتی ہیں۔ جب بی جے پی نے پاکستان اور پاکستانی شخصیت کے حوالے سے شدید منافرت کا ماحول پیدا کر رکھا تھا تب ممتا بینرجی نے غلام علی کو کولکتہ بلواکر کنسرٹ کروایا تھا۔ اس پر بی جے پی بہت سیخ پا ہوئی تھی۔

بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے باشندے ملک کی حدود ہی میں رہیں گے۔ کہیں اور جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بھارت تو وہ بالکل نہیں جائیں گے۔

بنگلہ دیشی حکومت ممتا بینرجی کے بیان پر اس لیے ناراض ہے کہ اِس سے عالمی سطح پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں حکومت لوگوں پر مظالم ڈھارہی ہے جس کے باعث وہاں ملک سے بیزاری کا ماحول ہے اور لوگ مجبور ہوکر ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیرِخارجہ کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ کے بیان سے شدید کنفیوژن پیدا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش نے اس سلسلے میں نئی دہلی کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ بھی بھیجا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِخارجہ حسن محمود کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو بنگلہ دیش کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو کچھ بھی بنگلہ دیش میں ہو رہا ہے وہ اُس کا اندرونی معاملہ ہے۔

ممتا بینرجی نے ایک اجتماع سے خطاب میں پناہ گزینوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے منشور اور قراردادوں کا حوالہ دیتے نے کہا تھا کہ اگر کوئی حالات سے تنگ آکر مغربی بنگال کا دروازہ کھٹکھٹائے گا تو ہم اُس کی مدد کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے