بہار: بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے وزیرِاعلیٰ نیتش کمار کو اُن کی زبان نے بہت بڑے “سنکٹ” سے دوچار کردیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے اجلاس کے دوران راشٹریہ جنتا دل کی رکن ریکھا پاسوان سے بحث کے دوران نیتش کمار یادو مشتعل ہوگئے اور بھرے ایوان میں ریکھا سے کہا “تم چپ رہو، تم تو عورت ہو، تمہیں بھلا معلوم ہی کیا ہے؟”
بہار کے وزیرِاعلیٰ کے اِن ریمارکس کو اپوزیشن والوں نے دانتوں سے پکڑلیا ہے۔ یہ ریمارکس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب وائرل ہوئے ہیں۔ نیتش کمار کو ہر طرف سے شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا ہے۔ صوبے میں سرکاری اور غیر سرکاری ملازمت پیشہ خواتین نے نیتش کے کمار کے اِن ریمارکس کو انتہائی اہانت آمیز قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
نیتش کمار کے ریمارکس پر ایوان میں بھی بہت ہنگمہ آئی ہوئی تھی۔ اسپیکر نے اُنہیں متنبہ کیا کہ وہ اس نوعیت کے امتیازی اور اہانت آمیز بیانات دے کر ایوان کی ارکان کا تقدس پامال نہ کریں۔
واضح رہے کہ نیتش کمار اس سے قبل بھی خواتین کے بارے میں شدید اہانت آمیز ریمارکس دے چکے ہیں۔ ایوان میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلیٰ کے منصب پر فائز شخص کو ایسی کوئی بھی بات کہتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ اِس سے ایوان کا تقدس بھی مجروح ہوگا اور عوام کی منتخب نمائندوں میں بددلی بھی پھیلے گی۔

