برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے ایئر پورٹ پر بدھ کو رونما ہونے والے افسوس ناک واقعے پر مانچسٹر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو محض معطل نہ کیا جائے بلکہ اُن کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ اُنہیں برطرف کرنے کی راہ ہموار ہو۔
مانچسٹر ایئر پورٹ پر بدھ کو پولیس اہلکاروں نے ایک پاکستانی فیملی پر بہیمانہ تشدد کیا تھا۔ دو بھائیوں کو وحشیانہ انداز سے مارا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی فیملی کو انتہائی بہیمانہ انداز سے مارا جارہا ہے۔ یہ فیملی تب سے اب تک شدید صدمے کی حالت میں ہے۔
جمعرات کی شام اور رات مانچسٹر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ ان میں مقامی سفید فام افراد بھی شامل تھے۔ ان سب نے مانچسٹر ایئر پورٹ پر رونما ہونے والے واقعے کو انتہائی شرم ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے ملک کے بارے میں تاثر خراب ہوتا ہے۔
مظاہرین میں بڑی تعداد پاکستانی نژاد باشندوں سمیت ایشیائی نسل کے لوگوں کی تھی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایسے گھناؤنے اور شرم ناک واقعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے کہ ان اہلکاروں کو برطرف کردیا جائے جنہوں نے مانچسٹر ایئر پورٹ پر پاکستانی فیملی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
واضح رہے کہ برطانوی معاشرے میں تارکینِ وطن کا معاملہ انتہائی نازک شکل اختیار کرگیا ہے۔ حالیہ برطانوی انتخابات میں بھی تارکینِ وطن کے معاملے نے کلیدی کردار ادا کیا۔
امریکا اور یورپ میں تارکینِ وطن کے خلاف نفرت کی لہر دوڑائی جارہی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی داؤ پر لگ رہی ہے۔ برطانوی معاشرے میں تارکینِ وطن کا معاملہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہ اب سیاست و معیشت سمیت بیشتر شعبوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

