اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران عیسٰی علیہ السلام کی توہین پر فرانسیسی حکومت اور تقریب کی انتظامیہ کو دنیا بھر سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ افتتاحی تقریب میں متعدد مذہبی اور تاریخی شخصیات کے خاکے انتہائی اہانت آمیز انداز سے پیش کیے گئے۔
نشاۃِ ثانیہ کے عظیم سائنس اور مصور لیونارڈو دا ونچی کی بنائی ہوئی عیسٰی علیہ السلام کے آخری عشائیے کی تصویر کا خاکہ بھی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں پیش کیا گیا۔
ایک ہم جنس پرست فنکار یہودی فنکار تھامس جولی کو عیسٰی علیہ السلام کے کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس پیشکش پر دنیا بھر میں انتہائی تنقید اس لیے کی جارہی ہے کہ یہ کردار برہنہ پیش کیا گیا اور پورے جسم پر نیلا رنگ پوتا ہوا تھا۔ پس منظر میں بھی ہم جنس پرست فنکار بیٹھے ہوئے تھے۔
اس بھونڈی اور انتہائی گستاخانہ حرکت پر فرانسیسی حکومت کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ متعدد ممالک کے کیتھولک مسیحی بھی احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس تصویر کو کیتھولک مسیحیوں میں انتہائی عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لیونارڈو دا ونچی نے ‘دی لاسٹ سَپر’ کے زیرِعنوان اپنی معروف تصویر عیسٰی علیہ السلام کو اپنے 12 حواریوں کے ساتھ آخری کھانا کھاتے ہوئے دکھایا ہے۔ لیونارڈو دا ونچی کو دنیا ‘مونالیزا’ کے حوالے سے جانتی ہے۔
اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے منتظمین کی طرف سے اب تک معذرت نہیں کی گئی۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ہنگامہ برپا ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس توہینِ مذہب پر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں اور لبرل اِزم کے نام پر فرانسیسی حکومت کی طرف سے شائستگی اور تہذیب کو خدا حافظ کہنے کی روش کی بھرپور مذمت کر رہے ہیں۔
اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں بعض معروف تاریخی شخصیات کی پیروی بھی بھونڈے انداز سے پیش کی گئی۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ کے کروڑوں صارفین کے جذبات مجروح کرنے کا سبب بنا ہے۔
فرانسیسی حکومت اور اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے منتظمین پر تنقید کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اولمپکس کے مقابلوں پر تنازعات کے بادل چھا جائیں گے۔
اس حوالے سے مسلم دنیا کا ردِعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ کیتھولک مسیحیوں کی اکثریت والے معاشروں کے انٹرنیٹ یوزرز نے اس حوالے سے بھرپور احتجاج شروع کردیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فرانسیسی حکومت اس صریح توہین پر معافی مانگے۔

