English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دھرنے کی کامیابی کے بعد قومی مزاحمتی تحریک شروع کریں گے‘حافظ نعیم

راولپنڈی : امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن دھرنے کے مقام پر خواتین کے جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں

راولپنڈی ( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بجلی کے بم نہیں بل چاہییں، حکومت آج مان لے یا کل، کمپرومائز نہیں ہوگا، مطالبات کی منظوری میں ٹال مٹول کی گئی تو اگست میں آنے والے بلوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی زیرغور ہے، تاجروں اور دیگر طبقات سے مشاورت کروں گا، عوام کو حق دینا پڑے گا، دھرنا راولپنڈی میں بھی جاری رہے گا، گورنر ہاؤسز کے باہر بھی احتجاج شروع کر رہے ہیں،31 جولائی سے گورنر ہاؤس سندھ کے باہر دھرنے کا آغاز ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دھرنا کے مقام پر خواتین کے تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین قافلوں کی صورت میں راولپنڈی پہنچیں۔ پنجاب میں کئی مقامات پر پولیس نے انہیں روکا اور بسیں پکڑی گئیں، جہاں مقامی طور پر دھرنے دیے گئے۔ امیر جماعت نے خواتین جلسہ عام کو ملک کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا اور جماعت اسلامی خواتین نظم کو مبارک باد دی۔ احتجاج سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثمینہ سعید، عفت سجاد، ناظمہ صوبہ پنجاب شمالی ثمینہ احسان، ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مختلف اضلاع کی ناظمات اور نائب ناظمات بھی موجود تھیں۔ نائب امرا جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، ڈاکٹر اسامہ رضی، مولانا عطا الرحمن، میاں محمد اسلم، سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف ودیگر امیر جماعت کے ہمراہ تھے۔ امیر جماعت نے کہا کہ دھرنا کی کامیابی کے بعد جماعت اسلامی قومی مزاحمتی تحریک کا آغاز کرے گی۔ جمہوری بالادستی، آزادی اظہار رائے، الیکشن ریفارمز، لینڈ ریفارمز، صحت وتعلیم سمیت خواتین کو جائداد میں حصہ یقینی بنانے کا ایجنڈا بھی قومی مزاحمتی تحریک کا حصہ ہوگا، جو اپنی بہن بیٹی کو جائداد سے حصہ نہیں دے گا، جیل جائے گا، ہر بچی کی مفت اور معیاری تعلیم یقینی بنائیں گے، ملازمت پیشہ خواتین کی عزت وحرمت کی حفاظت، خواتین کے دیگر حقوق ہماری قومی تحریک کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے جاگیردار خواتین کو جائداد سے حصہ نہیں دیتے، ان کی جاگیروں پر کام کرنے والے ہاریوں، مزدوروں اور خواتین کو حقوق نہیں ملتے۔ انہوں نے شرکائے جلسہ سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کے پیغام کو گراس روٹ لیول تک پھیلائیں، جماعت اسلامی ہر خاتون کے لیے جد وجہد کا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ جماعت اسلامی دھرنا کے بعد ملک گیر ممبرشپ مہم کا آغاز کرے گی، مقامی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ظالم حکمران اشرافیہ نے قوم کے بچوں کو تعلیم سے محروم کیا، 2 کروڑ62 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملک کا نوجوان مایوس ہوچکا ہے، حکمرانوں نے انہیں نشہ کی لت میں دھکیلنے کا پورا بندو بست کیا ہے، ہم انہیں مایوس نہیں ہونے دیں گے، ظالموں کے خلاف ہمہ گیر تحریک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، حکمران اپنی عیاشیاں کم کریں، عوام ان کی عیاشیوں کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے، اتنے بل دیں گے جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت ٹیکس لیتی ہے تو عوام کو بنیادی سہولیات بھی دے۔ حکمرانوں سے کرپشن کا پیسہ نکالیں گے، ملک کے وسائل کوعوام کی فلاح کے لیے خرچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ہمیں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے، طاغوت کی تکفیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے، استقامت سے اس فرسودہ نظام کو شکست دیں گے جس نے عوام کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ قبل ازیںامیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے دھرنا گاہ کے پنڈال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز سے معاہدے غیر قانونی ہیں، قوم کے سامنے لائے جائیں، پنجاب حکومت اور وفاق کو کہتا ہوں رکاوٹیں ڈال کر اپنے لیے حالات خراب کر رہے، دھرنے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کو 4دن ہوگئے، یہ تاریخی دھرنا عزم، ہمت اور حوصلے کا پیغام بن کر دنیا کے سامنے آرہا ہے، بجلی بلوں کے بم گر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، اب بات خودکشیوں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنج سیاسی لوگ کرتے ہیں، سیاسی پارٹیوں کی ذمے داری ہوتی ہے عوام پر ہونے والے ظلم کو چیلنج کریں، جو ماحول بنا دیا گیا، جماعت اسلامی کے سوا کوئی آواز سامنے نہیں آرہی، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا کہ 25 کروڑ عوام کی ترجمانی کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم پرامن مزاحمت کرتے ہوئے مری روڈ پر موجود ہیں، افسوس ہے لاہور میں خواتین کے ساتھ برا سلوک کیا گیا، خواتین کو چاروں طرف سے ناکہ بندی کرکے روکا گیا ، سیکڑوں، ہزاروں خواتین کے راستے روکے گئے، صوبائی اور وفاقی حکومت رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنے لیے مشکل حالات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ کر رہا ہوں فوری رکاوٹیں ختم کی جائیں، ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو دھرنے میں شرکت کرنے دی جائے، ان حالات کا سامنا گھر کی عورت ہی کرتی ہے، جب خواتین اپنے حق کیلیے نکلتی ہیں تو آپ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، یہ بزدلانہ کام کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کہ پاکستان تصادم کا راستہ برداشت نہیں کرسکتا، جب رکاوٹیں کھڑی کریں گے تو وہ توڑی بھی جائیں گی، پھر ہم سے شکایات نہ کریں، گزشتہ حکومتوں نے آئی پی پیز کو طاقتور بنایا ہے، آئی پی پیز معاہدوں میں جھوٹ اور دھوکا ہے، بتایا جائے جو معاہدہ ہوا وہ کیا تھا اور حقیقت میں کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اصل حق اس کا ہوتا ہے جو قانونی طریقے سے معاہدہ کرتا ہے، کپیسٹی چارجز ختم کرنے پر کس نے حکومت کا ہاتھ روکا ہے، ہم کیوں اپنے بجلی بلوں میں ان پیسوں کو ادا کریں، بجلی کے بلوں میں ٹیکسز ہم کیوں ادا کریں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے پہلے دور میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں، ہمیں کپیسٹی چارجز کسی طور قابل قبول نہیں، حکومت کو واضح کیا ہے کہ مراعات بالکل ختم کرنا پڑیں گی۔ ا نہوںنے کہا کہ حکومت بتائے کیا واپڈا اوردوسرے محکموں کے افسران کو بجلی مفت نہیں ملتی؟ ایک بہت بڑے طبقے کو پیٹرول مفت ملتا ہے، بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، ان کو گھر اور ذاتی استعمال کیلیے پیٹرول مفت ملتا ہے، مفت پیٹرول مختلف افسران کو ملتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جن افسران کی بڑی گاڑیوں کو مفت پٹرول ملتا ہے اس کی ادائیگی ہم کرتے ہیں، تمام افسران کیلیے طے کیا جائے کہ وہ 1300 سی سی سے بڑی گاڑی استعمال نہ کریں، محمد خان جونیجو کے دور میں تمام بڑے لوگوں کیلیے1000 سی سی سے اوپر گاڑی نہیں ہوتی تھی، اب کم از کم 1300 سی سی گاڑی پر تو آجائیں۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے ساری مراعات ختم ہونی چاہییں، ایک ایک آئی پی پی کا فرانزک آڈٹ ہو، قوم2600 ارب روپے آئی پی پیز معاہدوں کی مد میں ادا کرتی ہے، آپ تنخواہ دار لوگوں کو برباد نہ کریں، چاہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کے ہوں یا گورنمنٹ کے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، آپ پیٹرول پر لیوی ختم کریں، نااہلی آپ کی ہو اور پیسے ہم کیوں دیں؟ آپ نے فکس ڈیوٹی لگا دی ہے، آپ انڈسٹری تباہ کرکے کیسا کھیل کھیل رہے ہیں؟ آپ اس بیروزگاری کو کہاں لیکر جائیں گے، ہمارے تمام مطالبات عوام کی آواز ہیں۔ مزید برآں لیاقت باغ کے سامنے مری روڈ پر جماعت اسلامی کا مہنگائی، مہنگی بجلی، ٹیکسز اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف دھرنا چوتھے روز بھی جاری رہا، دن بھر بارش کے باوجود کارکنان جماعت اسلامی ثابت قدمی سے دھرنے میں ڈٹے رہے۔ بڑی تعداد میں خواتین بھی دھرنے میں پہنچ گئیں۔ پیر کو جڑواں شہروں میں دن بھر بارش کا سلسلہ جاری رہا اور بارش دھرنے کو متاثر نہ کر سکی۔ خراب موسم کے باوجود دھرنے میں کارکنان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جبکہ دھرنا کے لیے جھولی فنڈ بھی شروع ہوگیا ہے جس میں کارکنان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں خواتین کے ہمراہ بچے بھی دھرنے میں شریک ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ، امیر العظیم، ڈاکٹر طارق سلیم، سید عارف شیرازی، عبد الواسع، نصراللہ رندھاوا کارکنان بارش کے دوران کارکنان کے درمیان موجود رہے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے