اسلام آباد: پاک فوج کے میڈیا ونگ کی سربراہی اب مستقل طور پر حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی تازہ ترین تنظیم نو پاکستان کے معلوماتی ماحول میں پیچیدہ چیلنجز کے پیش نظر کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے شعبہ کی توسیع سے کام کے نئے شعبے تلاش کیے جائیں گے جو ذرائع کے مطابق کام کے سابقہ طریقہ کار سے مختلف ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف پاک فوج کے میڈیا ونگ کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے جب کہ دو میجر جنرلز ان کے ماتحتوں کے طور پر ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ انتشار پھیلانے والے عناصر سے لاحق خطرات کو کم کرسکیں۔
مزید یہ کہ میجر جنرلز کی تقرریاں چند روز میں مکمل ہو جائیں گی۔
آئی ایس پی آر حالیہ پریسر
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک ہفتہ قبل ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ اس رابطے کا مقصد کچھ اہم معاملات پر فوج کے موقف کو واضح کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ حلقوں کی طرف سے منظم پروپیگنڈے کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے جو حالیہ دنوں میں مسلح افواج کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقتاً فوقتاً ان مسائل پر بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں سکیورٹی فورسز کی کوششوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی 22,409 آپریشن کئے جس کے نتیجے میں 31 ہائی پروفائل دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران 137 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
انہوں نے ‘آپریشن اعظم استحکام’ کے بارے میں بھی بات کی جو کہ ان کے بقول سابقہ آپریشنز کے برعکس تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار کوئی بھی بے گھر نہیں ہوگا۔

