بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم کے منصب سے گزشتہ روز مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ واجد کی بھارت میں انٹری نے اُن کی بیورو کریسی کو بھی ایسا ہی کرنے کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔
بنگلہ دیش کے طول و عرض میں ایسے اعلیٰ افسران کو تلاش کیا جارہا ہے جو شیخ حسینہ کے عہدِ حکومت میں بڑے عہدوں پر تھے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ لوگ انتقام لینے اور سبق سکھانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
ہزاروں سرکاری افسر اور اُن کے حاشیہ بردار اپنے اپنے گھروں سے نکل گئے ہیں۔ وہ ایسے مقامات پر چُھپنے کو ترجیح دے رہے ہیں جن کے بارے میں لوگ زیادہ نہ جانتے ہوں۔ بہت سے افسروں نے چھوٹے شہروں کے معمولی ہوٹلوں میں پناہ لے رکھی تھی۔ ماحول ایسا ہے کہ کسی بھی بھنک بھی پڑ جائے کہ شیخ حسینہ کا کوئی لاڈلا افسر کہیں ٹھہرا ہوا ہے تو ذرا سی دیر میں ٹولے وہاں دھاوا بول سکتے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ بنگلہ دیش کی بیورو کریسی میں شیخ حسینہ کے نزدیک رہنے والے اعلیٰ افسران ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے بھارت میں گھسنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں کیونکہ اُنہیں یہ ڈر ہے کہ کوئی بھی مشتعل اور بپھرا ہوا ٹولا اُنہیں اُن کے گھر میں گھس کر یا راستے میں گھیر کر مار سکتا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق شیخ حسینہ کے منظورِ نظر افسران بھارتی حکومت سے استدعا کر رہے ہیں کہ اگر وہ سرحد تک پہنچ جائیں تو اُنہیں بھارت میں داخل ہونے سے نہ روکا جائے۔ ان میں سے بہت سوں کے پاس اس وقت پاسپورٹ بھی نہیں اور جن کے پاس پاسپورٹ ہیں اُن کے پاس بھارت کا کارآمد ویزا نہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے زور پکڑتے ہی بھارت نے سرحدوں کی چوکسی بڑھادی تھی اور گزشتہ روز شیخ حسینہ واجد کے مستعفی ہونے کے بعد بھارت نے بنگلہ دیش سے ملحق تمام سرحدی انٹری پوائنٹس بند کردیے ہیں۔
شیخ حسینہ کے ارد گرد منڈلانے والے سرکاری افسران چُھپتے اور بھاگتے پھر رہے ہیں۔ بہت سوں نے بسوں، ویگنوں اور کاروں کے ذریعے سرحد تک کا سفر کیا ہے مگر اُنہیں بھارتی حکام قبول نہیں کر رہے۔ یہ سرکاری افسر اس خیال سے سہمے ہوئے ہیں کہ مشتعل عوام کو بھنک بھی پڑگئی تو مار ڈالیں گے۔
کل تک جو اعلیٰ افسران اور اُن کے ماتحت حکومتی ٹولے کا حصہ بن کر مزے لُوٹ رہے تھے وہ اب جان بچانے کے لیے چھپتے پھر رہے ہیں۔ ملک بھر میں ایسے افسران اور اُن کے ماتحت کام کرنے والوں کو تلاش کیا جارہا ہے۔ بہت سے سرکاری افسران کو شدید زد و کوب کیے جانے کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ عوام کے سَروں پر خون سوار ہے۔

