English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا شیخ حسینہ نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا؟

بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا ہے اُس کے بعد ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا شیخ حسینہ واجد نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ شیخ حسینہ کی عمر 76 سال ہے۔ اُن کی صحت اب تک قابلِ رشک رہی ہے۔ اِتنی بڑی عمر میں بھی وہ خاصی متحرک دکھائی دیتی رہی ہیں۔

لندن میں برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے کہا کہ اُس کی والدہ اب سیاست میں واپس نہیں آئیں گی۔ سجیب کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اُس پر شیخ حسینہ کو بہت افسوس ہے کیونکہ اُنہوں نے ملک کے لیے بہت محنت کی تھی۔

سجیب واجد نے شیخ حسینہ واجد کے عہدِ حکومت یں اطلاعات اور مواصلات کی ٹیکنالوجی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا اہم کوئی تنخواہ نہیں لی۔

سجیب واجد کا کہنا تھا کہ اس کی والدہ نے مستعفی ہونے کا فیصلہ اتوار ہی کو کرلیا تھا۔ انہوں نے مستعفی ہوکر ملک اس لیے چھوڑا کہ اُن کے خاندان کا اس حوالے سے اُن پر دباؤ تھا۔ سب چاہتے تھے کہ وہ اپنا تحفظ یقینی بنائیں۔

سجیب واجد نے بتایا کہ خاندان کے کچھ لوگ اب بھی بنگلہ دیش میں ہیں۔ اُن میں سے بیشتر کے بارے میں پورے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ رابطے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔

جب سجیب کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی کہ حکومت نے طلبہ تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا سہارا لیا تو ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک حملے میں مظاہرین نے سراج گنج میں 13 پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اگر کوئی ٹولا حملہ کردے اور بات نہ مانے تو پولیس کیا کرے؟ کیا مار کھاتی رہے؟

سجیب واجد کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر معاشی عدم استحکام کی طرف جاسکتا ہے۔ پندرہ سال پہلے ملک معاشی اعتبار سے تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اس ڈیڑھ عشرے میں ملک کو معاشی استحکام سے ہم کنار کرنے کے لیے غیر معمولی محنت کی گئی مگر وہ ساری محنت اب مٹی میں ملتی دکھائی دے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے