بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے سابق وزیرِاعظم اور شیخ حسینہ کی سب سے بڑی سیاسی حریف بیگم خالدہ ضیا کی فوری رہائی کا بھی اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں جنوری 2024 میں عام انتخابات ہوئے تھے جن کے نتیجے میں نئی پارلیمنٹ کی تشکیل ہوئی تھی۔ ان عام انتخابات میں عوامی لیگ کو مسلسل چوتھی بار کامیابی ملی تھی اور اُس نے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔
یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد نے گزشتہ روز وزیرِاعظم کے منصب سے مستعفی ہوکر بھارت کی راہ لی تھی۔ وہ وہاں سے انگلینڈ پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست دینے والی ہیں۔ شیخ حسینہ کے ساتھ اُن کی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ بھی ہیں۔ ریحانہ برطانوی شہری ہیں۔
بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقارالزماں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوج کے تعاون سے بہت جلد عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی۔ اس کے بعد قومی اتفاقِ رائے کی حکومت بنے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔
شیخ حسینہ واجد کل شام ساڑھے پانچ بجے بھارت پہنچی تھیں۔ اُنہوں نے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا جس میں بنگلہ دیش کے بحران کا جائزہ لیا گیا۔ شیخ حسینہ واجد کو دہلی کے نزدیک غازی آباد میں انڈین ایئر فورس کے ہوائی ڈے پر ایک مکان میں رکھا گیا ہے۔ ان کی پرواز نے اسی ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تھا۔
شیخ حسینہ واجد کا اقتدار ایک ماہ جاری رہنے والی طلبہ تحریک کی نذر ہوگیا۔ اس تحریک کے دوران طلبہ نے حکومت کی طرف سے غیر معمولی دباؤ کا بھی سامنا کیا۔ تحریک کی ابتدا سرکاری ملازمتوں میں 56 فیصد تک کوٹے کے خلاف احتجاج سے ہوئی تھی۔
بنگلہ دیش کی سرکاری ملازمتوں میں 40 سال تک 30 فیصد کوٹہ 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے والے نام نہاد فریڈ فائٹرز اور اُن کی اولاد کے لیے مختص تھا۔ اس کوٹے کے خلاف کئی بار احتجاج کیا گیا جس پر شیخ حسینہ نے 2018 میں یہ کوٹہ ختم کردیا تھا تاہم ایک ہائی کورٹ نے یکم جولائی کو چند آئینی درخواستوں کے جواب میں یہ کوٹہ بحال کیا تو طلبہ بھڑک اٹھے اور اُنہوں نے سڑکوں پر نکلنے کے بعد واپس نہ جانے کی قسم کھالی۔
ایک ماہ کی تحریک کے دوران 200 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ طلبہ تحریک نے پورے ملک کے عوام کو سول نافرمانی کی کال دی تو صرف ایک دن میں 14 پولیس اہلکاروں سمیت 100 افراد ہلاک ہوئے اور حکومت نے عوام کے شدید اشتعال کو دیکھتے ہوئے ناقابلِ یقینی تیزی سے گھٹنے ٹیک دیے۔
شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے پندرہ سالہ اقتدار کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کرنے میں فوج نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ فوج نے حکومت کے احکامات کی تعمیل سے انکار کردیا تھا۔ آرمی چیف جنرل وقارالزماں نے شیخ حسینہ کی طرف سے ملنے والے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے فوج کو حکم دیا کہ مظاہرین سے تصادم مول نہ لیا جائے اور اُن پر گولی نہ چلائی جائے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر کی رات صدر محمد شہاب الدین نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان، سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات سے سیرحاصل مشاورت کی اور پارلیمنٹ کی تحلیل کا اعلان کیا۔ بھارت کے لیے عوامی لیگ کے اقتدار کا خاتمہ اور شیخ حسینہ کا انتہائی بُزدلانہ فرار شرمناک امر ہے کیونکہ شیخ حسینہ کو بھارت کی طرف دار تسلیم کیا جاتا ہے۔
عوامی لیگ کے پندرہ سالہ اقتدار میں بنگلہ دیش کو بھارت کے زیرِ نگیں رکھنے پر خاص توجہ دی گئی اور معیشت و سیاست سمیت ہر شعبے میں بنگلہ دیش کے طول و عرض میں بھارتی اثرات کو پروان چڑھایا گیا۔
بنگلہ دیش کے غیر معمولی سیاسی بحران کو دیکھتے ہوئے بھارت نے سرحدوں کی چوکسی بڑھادی ہے۔ بارڈر سیکیورٹی فورس نے تمام سیکٹرز کے لیے ہائی الرٹ جاری کیا ہے۔ بنگلہ دیش سے عوامی لیگ کے بہت سے کارکن اور قائدین فرار ہوکر بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش سے جُڑی ہوئی بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی نے پندرہ دن قبل کہا تھا کہ اگر بنگلہ دیش سے لوگ فرار ہوکر آئیں گے تو ہم اُن کا خیرمقدم کریں گے۔ اُن کا اشارہ حکومت کے کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے آنے والے طلبہ کی طرف تھا۔ اس بیان پر بنگلہ دیش کی حکومت بہت جزبز ہوئی تھی اور اِسے بنگلہ دیش کے معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا تھا۔
بھارتی حکومت نے حفاظتی اقدام کے تحت بنگلہ سے ملحق سرحدی علاقوں کی طرف جانے والی مسافر ٹرینیں اور مال گاڑیاں بھی روک دی ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے سفیر ہرش وردھن شرنگلا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں معاملات نے جس تیزی سے جو رخ اختیار کیا اُسے دیکھتے ہوئے بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے حالات کو بدلنے میں غیر بیرونی قوتوں کا عمل دخل بھی ہوسکتا ہے۔
بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک جون کے دوران پُرامن رہی تھی۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں سے تصادم سے گریز کیا گیا تھا اور پولیس نے بھی احتجاج کرنے والوں کو کچلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں عوامی لیگ کے اسٹوڈنٹ ونگ کے کارکن بھی کوٹے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے ٹکرائے تب خونیں تصادم کی راہ ہموار ہوئی۔
گزشتہ روز شیخ حسینہ کے استعفے کے بعد ملک بھر میں جشن منایا گیا۔ عوام اس تبدیلی پر بہت خوش دکھائی دیے۔ ڈھاکہ میں وزیرِاعظم ہاؤس، شیخ مجیب میوزیم، چیف جسٹس کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ ہاؤس اور دوسری بہت سے سرکاری عمارتوں پر عوام نے دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے ایک جہازی سائز کے مجمسے کو بھی عوام کے اشتعال کا نشانہ بننا پڑا۔

