تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کی عدالت نے فری دستورین پارٹی کی سربراہ اور صدارتی انتخابات کی امیدوار عبیر موسی کو 2سال قید کی سزا سنادی۔ ان پر خود مختار اعلیٰ انتخابی اتھارٹی کی توہین کا الزام ہے۔ یہ فیصلہ تونس میں 6اکتوبر کو مقررہ صدارتی انتخابات کے انعقاد سے 2ماہ قبل سامنے آیا ہے۔ انتخابی اتھارٹی کی جانب سے رواں سال کی ابتدا میں عبیر کے خلاف شکایت پیش کی گئی تھی کہ انھوں نے اتھارٹی کی توہین کی اور لوگوں کو اس کے خلاف اکسایا۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر قیس سعید کی پالیسیوں کی مخالف عبیر گزشتہ برس اکتوبر سے زیر حراست ہیں۔ ان پر ذاتی معلومات کے حوالے سے غیر قانونی عمل اختیار کرنے، سرکاری کاموں میں رکاوٹ ڈالنے اور بد امنی پیدا کرنے کا بھی الزام ہے۔عبیر کی پارٹی کا کہنا ہے کہ 49سالہ رہنما کی گرفتاری صدارتی انتخابات میں خاتون سیاست دان کی شرکت روکنے کے لیے حکام کی جانب سے قانونی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ جیل میں ہونے کے باوجود عبیر موسی نے گزشتہ ہفتے اپنی دفاعی کمیٹی کے ذریعے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، حالاں کہ ان کے پاس بعض بنیادی دستاویزات نہیں تھیں جن میں عدالتی ریکارڈ کا کارڈ اور ووٹروں کی تصدیق کرنے والا نمونہ فارم شامل ہے۔ واضح رہے کہ تیونس میں اپوزیشن جماعتیں صدر قیس سعید پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ اپنے حریفوں کو صدارتی انتخابات سے دور رکھنے کے لیے عدلیہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم صدر کا اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا مقصد ملک میں افواہیں اور بد امنی پھیلانا ہے۔
