English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطانیہ : ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو دہشت گرد قرار دینے پر غور

القمر

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ مین ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو دہشت گرد قرار دینے پر غور شروع ہوگیا۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز کے ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوٹر فساد میں ملوث افراد پر دہشت گردی کے الزامات لگانے پر غور کر رہے ہیں۔وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ فساد میں ملوث افراد کے کیس ایک ہفتے میں نمٹائے جائیں گے،جس سے انہیں قانون کی پوری قوت کا اندازہ ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزرا ، پولیس چیف اور انٹیلی جنس کے نمایندوں کی کوبرا میٹنگ میں فسادیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا،جب کہ وزیراعظم نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا۔ کوبرا میٹنگ کے اختتام پر بات کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ فسادات میں مبینہ طور پر ملوث 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور 100 سے زائد پر فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔ تشدد کے سبب گھر سے نکلنے سے خوفزدہ افراد کو کئیر اسٹارمر نے یقین دلایا کہ وہ محفوظ رہیں گے۔ وزیراعظم نے نسل پرستانہ فسادات پر قابو پانے کے لیے کوبرا میٹنگ طلب کی تھی۔ برطانیہ میں کوبرا میٹنگ حالت جنگ جیسی صورت حال میں بلائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہاپسند ساؤتھ پورٹ میں بچوں کے قتل کے بعد سے احتجاج کر رہے ہیں۔مظاہرین کا الزام ہے کہ چاقو حملے میں شامی مہاجر ملوث تھا،جس کے بعد مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز مہم چل پڑی۔ احتجاج اور نسل پرستانہ فسادات میں مسلمانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنایا جارہا ہے،24سے زائد شہروں میں نسل پرستوں کے حملوں میں 150پولیس اہلکار اور درجنوں شہری زخمی ہوچکے ہیں۔ برطانوی حکام نے پرتشدد واقعات کا ذمے دار سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی افواہوں کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب لنکا شائر میں شرپسندوں نے مسلمانوں کے قبرستان پر حملہ کرکے کتبے توڑ دیے اور رنگ پھینک کر قبروں کی بے حرمتی کی۔ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی اور مساجد کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔ دائیں بازو والے مساجد پر حملے کرکے اپنا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔ بدامنی پھیلانے کے پیچھے بدمعاش گروہ ملوث ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے