سنگاپور (انٹرنیشنل ڈیسک) سنگاپور میں 59 سالہ شخص کو منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں پھانسی دے دی گئی ، جو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری سزا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور انہوں نے اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سنگاپور کے کا کہنا ہے کہ اس سزا سے ملک کو ایشیا کا محفوظ ترین ملک بنانے میں مدد ملی ہے۔ سینٹرل نارکوٹکس بیورو (سی این بی) نے ایک بیان میں کہاکہ 59 سالہ سنگاپوری کو35.85 گرام ہیروئن کی اسمگلنگ کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔سنگاپور میں منشیات کے نہایت سخت قوانین کے تحت 15 گرام سے زیادہ ہیروئن کی اسمگلنگ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ مجرم نے اپنی سزا اور فیصلے کے خلاف اپیل تھی،تاہم اپیل کورٹ نے 11 مئی 2022 ء کو اپیل مسترد کر دی،جب کہ صدر کو دی گئی معافی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس سے قبل جمعہ کے روز ایک اور 45 سالہ شخص کو بھی 36.93 گرام ہیروئن اسمگل کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ فروری میں 35 سالہ بنگلا دیشی احمد سلیم کو سنگاپور میں اپنی سابق منگیتر کے قتل کے جرم میں لٹکا دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ سنگاپور میں مارچ 2022 ء میں سزائے موت پر عمل دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔
