English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ میں 6 ہزار 342 گھوسٹ اساتذہ کا انکشاف ، وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ

القمر

کراچی (نمائندہ جسارت) محکمہ تعلیم سندھ میں6 ہزار342 گھوسٹ اساتذہ کا انکشاف ہوا ہے اور مذکورہ اساتذہ کے خلاف کارروائی کے لیے سمری صوبائی وزیر تعلیم کو بھجوا دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) مانیٹرنگ نے سیکرٹری تعلیم سندھ کو گھوسٹ اساتذہ کے حوالے سے سمری بھجوا دی ہے اور سمری میں کہا گیا ہے کہ متعدد اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین بھی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔ وزیرتعلیم سے سمری کے ذریعے سفارش کی گئی کہ تمام اساتذہ کی آئی ڈیز اور تنخواہیں بند کی جائیں اور گھوسٹ اساتذہ کے خلاف کارروائی کی جائے اور سیکرٹری تعلیم نے سمری منظوری کے لیے وزیر تعلیم کو بھجوا دی ہے۔قبل ازیں مستقل غیرحاضر اساتذہ میں سے متعدد کے بیرون ملک جانے کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد سندھ کے محکمہ تعلیم نے طویل عرصے سے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔محکمہ تعلیم نے بتایا تھا کہ قواعد کے خلاف بیرون ملک جانے والے اساتذہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق شہید بینظیرآباد سے بیرون ملک جانے والے غیر حاضر اساتذہ کا ریکارڈ ایف آئی اے نے دے دیا ہے اور اس رپورٹ کی روشنی میں غیرحاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ بعد ازاں محکمہ تعلیم سندھ نے وضاحتی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ محکمے میں اس وقت کوئی گھوسٹ ملازم نہیں ہے، گھوسٹ ملازم یا گھوسٹ اساتذہ کی اصطلاح کے استعمال سے محکمہ کا غلط تاثر پیش ہو رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ نوکری پر غیر حاضر رہنے یا عادی غیر حاضر اساتذہ یا ملازمین کی نشان دہی خود محکمے کی طرف سے کی گئی تھی بغیر اطلاع کے غیر حاضر رہنے والے اساتذہ یا ملازمین کی نشان دہی پر محکمے کی طرف سے کارروائی وَقتاًَ فوَقتاً ہوتی رہتی ہے۔وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گھوسٹ ملازمین کا مطلب ہوتا ہے جو محض کاغذی کارروائی میں موجود ہوں مگر اصل میں نہ ہوں، غیر ضروری اور غیر فعال اسکولوں کو 2021ء میں نان وائبل ثابت ہونے پر ختم کردیا گیا تھا جبکہ غیر حاضر اساتذہ اور ملازمین کی نشان دہی محکمے کی طرف سے ہونے والی انکوائری میں سامنے آئی ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ تعلیم سندھ میں6 ہزار 342 گھوسٹ اساتذہ کے انکشاف کے بعد پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے صوبائی وزیر تعلیم سے استعفا دینے کا مطالبہ کر دیا۔ عادل ہائوس پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا محکمہ تعلیم کو پیپلزپارٹی نے تباہ کر دیا ہے ہزاروں سرکاری اسکول مویشی کے باڑوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اب ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ کے انکشاف کے بعد صورتحال سامنے آچکی ہے‘ فوری طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم استعفا دے دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے