حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے دوسرے بڑے سول اسپتال حیدرآباد کے میڈ یکل سپرنٹنڈنٹ کے غریب مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے دعوے حالیہ بارشوں کے بعد ریت کا ڈھیر ثابت ہوئے ہیں، مون سون میں ہر سال کی طرح اس سال نہ تو کوئی ایمرجنسی نافذ کی گئی بلکہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی چمڑی کی بیماریوں سے بچائو اور علاج کے لیے کسی بھی طرح انتظامات نہیں کیے گئے، بارشوں کے دوران اسپتال میں سانپ یا زہریلے جانور کے کاٹے کا شکار ہوکر آنے والے مریضوں سمیت دیگر امراض کی ادویات کی قلت کے باعث غریب مریض باہر سے مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد/ جامشورو سول اسپتال میں ہر سال محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کی پیشنگوئی کے ساتھ ہی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے فوری اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹرز، پیرا میڈ یکل اور نرسنگ اسٹاف سمیت دیگر ملازمین کی ہفتہ وار سمیت دیگر تمام چھٹیاں بھی منسوخ کر دی جاتی تھیں اور مون سون کے دوران کسی بھی ممکنہ حادثات سمیت سانپ، بچھویا دیگر زہریلے جانور کے کاٹے کا شکار ہو کر آنے والے مریضوں کو فوری طبی امداد د ینے کے لیے وافر تعداد میں ڈرپس، کینولا، ادویات، انجکشن اور سانپ کے کاٹے کی ویکسین سمیت دیگر ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز و لیڈی ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ایمرجنسی وارڈ و شعبہ جات میں 24 گھنٹے الرٹ کر دیا جاتا تھا لیکن رواں سال مون سون کا تیسرا اسپیل ختم ہونے اور ماہِ اگست میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کے باوجود میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اعجاز احمد عباسی اب تک نیند سے بیدار نہیں ہوئے اور تاحال اسپتال میںنہ تو کوئی مون سون ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا اور نہ ہی اسپتال میں مریضوں کو ادویات میسر ہیں، بارشوں کے دوران سانپ، بچھویا دیگر زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں حالیہ بارشوں کے دوران اس طرح کے سیکڑوں مریض اسپتال پہنچے ہیں جنہیں اسپتال سے مطلوبہ ویکسین اور ادویات بھی نہیں مل سکیں۔ اسی طرح حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں بارشوں کے بعد چمڑی کے امراض پھوڑے، پھنسی جبکہ پیٹ کے امراض میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور سیکڑوں شہری بچے، بزرگ، جوان اور خواتین ان امراض میں مبتلا ہو کر جب سول اسپتال کی او پی ڈی جاتے ہیں تو وہاں کے اسٹور سے مریضوں کو یہ کہہ کر روانہ کردیا جاتا ہے کہ ابھی ادویات میسر نہیں ہیں، ٹینڈر ہو گیا ہے، ادویات آنے میں چند دن لگیں گے جس کی وجہ سے مریض اپنی مطلوبہ ادویات باہر کے اسٹوروں سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، غریب شہری اپنے علاج کے لیے پریشان نظر آتے ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر صحت اور چیف سیکرٹری سندھ سے اپیل کی ہے کہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر سول اسپتال حیدرآباد میں ادویات کی قلت کا نوٹس لے کر غریب شہریوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ناکام میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر انتظامی افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
