ارشد ندیم اولمپک کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی بن گئے ۔ انہوں نے جولین تھرو میں یہ طلائی تمغہ جیتا۔ انہوں نے 92.97 میٹر دور بھالا پھیک کر اولمپک ریکارڈ کیساتھ طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ چاندی کا تمغہ بھارت کے نیرج چوپڑہ کا حاصل ہوا انہوں نے 89.45 میٹر دور بھالا پھیکا ٹوکیو اولمپکس میں نیرج چوپڑہ نے 86.65 میٹر تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ ارشد ندیم84.62 میٹر کی تھرو کے ساتھ 5ویں نمبر پر رہے تھے۔ پیرس میں کانسی کا تمغہ گرینڈا کے اینڈرسن پیٹرس نے حاصل کیا ٹوکیو اولمپک کھیلوں میں وہ شریک نہیں ہوئے تھے اس مرتبہ انہوں نے 88.54 میٹر تھرو کیساتھ نقرئی تمغہ جیتا جو موجودہ اولمپک کھیلوں میں انکے ملک کا دوسرا نقرئی تمغہ اور کل ملاکر 5 واں تمغہ تھا۔
پاکستان نے32 سال بعد اولمپک کھیلوں میں کوئی تمغہ جیتا ہے۔ پاکستان نے ارشد ندیم سے پہلے آخری تمغہ بارسلونا میں 8 اگست 1992 میں جیتا تھا تب پاکستان کی ہاکی ٹیم نے کانسی کے تمغہ کیلئے نیدر لینڈز کو3 کے مقابلے 4 گول سے شکست دی تھی۔ پاکستان کیلئے ارشد ندیم سے پہلے 2 کھلاڑی انفرادی بور تمغہ حاصل کرچکے ہیں۔ 1960 میں روم میں ہوئے اولمپک کھیلوں میں محمد بشیر نے پہلوانی میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا جبکہ 1988 میں سیول میں ہوئے اولمپک کھیلوں میں حسین شاہ نے باکسنگ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم نے کل8 تمغے جیتے ہیں جس میں 3 طلائی، 3 نقرئی اور2 کانسی کے تمغہ شامل ہیں۔
ہنگری کی راجدھانی بودا پست میں عالمی ایتھلیٹکس چمپین شب میں بھی ارشد ندیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے نقری تمغہ حاصل کیا تھا اور وہ عالمی ایتھلیٹکس چمپین شب میں تمغہ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے جولین تھرومیں یہ نقری تمغہ حاصل کیا۔
اس مقابلے میں طلائی تمغہ بھارت کے نیرج چوپڑہ نے حاصل کیا جنہوں نے88.17 میٹر دور بھالا پھیکا۔ ارشد ندیم نے87.82 میٹر دور بھالا پھیکا جو اس سیزن میں انکی سب سے اچھی کارکردگی بھی ہے۔ چیک ری پبلک کے جوکوب ولدلیچ87.82 میڑ دوری کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔
ارشد ندیم جو 2 جنوری1997 کو میاں چنوں،خانیوال میں پیدا ہوئے۔ پیرس میں طلائی تمغہ حاصل کرنے کے بعد انکی رینکنگ پہلی ہوگئی۔ اس سے پہلے انکی سب سے اچھی رینکنگ5ویں تھی جو انہوں نے 24 جنوری2023 کو حاصل کی تھی۔ انکی سب سے اچھی کارکردگی 90.18 میٹر کی ہے جو انہو ں نے 7 اگست 2022 کو بر منگھم میں ہوئے دولت مشترکہ کھیلوں میں قائم کیا تھا۔ اس تھرو کے ساتھ انہوں نے طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا۔ انکی یہ تھرو دولت مشترکہ کھیلوں کا ریکارڈ بھی ہے۔ یہ طلائی تمغہ ان کا کسی بڑے کھیلوں میں پہلا تھا۔
جکارتہ میں 2018 میں ہوئے ایشیائی کھیلوں میں ارشد ندیم کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے انہوں نے80.75 میٹر تھرو کے ساتھ ایسا کیا تھا ان مقابلوں میں طلائی تمغہ نیرج چوپڑہ نے 88.06 میڑ تھرو کے ساتھ جیتا تھا جبکہ چین کے لیو کیزہین 82.22 میڑکی تھرو کے ساتھ نقری تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے تھے2021 میں ترکی کے شہر کونیا میں ہوئے اسلامی کھیلوں میں ارشد ندیم 88.55 میڑ کی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا انہی کھیلوں میں 2017 میں باکو میں وہ76.33 میٹر تھرو کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتے تھے۔
6 فٹ 4 انچ قد اور 95 کلو گرام وزن والے ارشد ندیم اپنے 8 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔عائشہ سے انکی شادی ہوئی تھی جس سے ان کے 2 بچے ہیں جس میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی شامل ہے۔ انہوں 2023 میں پاکستان کے صدر کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمینس کا ایواڑ ملا تھا۔ پیرس اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریبات میں وہ پاکستان کے پرچم بردار تھے۔ انکی سب سے بڑی خواہش اولمپک کھیلوں میں تمغہ جیتنا تھا جو پوری ہوگئی۔
