حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے کہا ہے کہ دوسروں پر انتہا پسندی کا الزام لگانے والے برطانیہ کا اپنا اسلامو فوبیا سے لتھڑا بدنما چہرہ بری طرح بے نقاب ہوگیا ہے، یہ بات انہوں نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح برطانیہ میں بڑی تعداد میں انتہا پسند بلکہ دہشت گرد جتھوں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران مسلمانوں کی مساجد، گھروں اور دکانوں کا جلائو گھیرائو کیا اور بدترین غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا وہ مغربی ممالک میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ یورپ کے اکثر ممالک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت انگیزی، نسلی تعصب اور تفریق کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں، مغربی ممالک کا میڈیا اور کئی سیاست دان اسلاموفوبیا کے بدترین داعی بن چکے ہیں، حجاب سمیت دیگر شعائر اسلام کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے، کئی مغربی ممالک آزادی اظہار کے دلفریب نعرے کی آڑ میں توہین قرآن اور توہین رسالت کے واقعات کے ذمہ دار افراد اور اداروں کو سرکاری سطح پر تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہولو کاسٹ پر کسی نوعیت کا تنقیدی تبصرہ بھی جرم شمار ہوتا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ کے نو منتخب وزیراعظم نے مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنے والے ان گروہوں کو فسادی قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ مساجد اور مسلمانوں پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے لیکن اصل غور طلب بات یہ ہے کہ جب تک ان ممالک میں ریاستی پالیسیوں اور میڈیا کے ذریعے اسلاموفوبیا کو پھیلانے کی منظم مہم کو ختم نہیں کیا جاتا، ایسے اندوہناک سانحات کی روک تھام کیسے ممکن ہو سکے گی؟ انہوں نے کہا کہ غزہ میں 10 ماہ سے جاری اسرائیلی درندگی میں بھی امریکا اور مغربی یورپ کے اکثر ممالک ظالم کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ان تمام واقعات کے باعث مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کی قلعی مکمل طور پر کھل چکی ہے۔ امیر تنظیم نے مسلمان ممالک کی قیادتوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیروں اور ان کے اداروں پر انحصار کرنے کے بجائے مسلمان ممالک متحد ہو کر دنیا بھر میں اپنے مظلوم بھائیوں، بہنوں، بچوں، بوڑھوں کی مدد کے لیے خود عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان ممالک دنیا بھر میں نظریاتی اور عملی اسلاموفوبیا کے مرتکب افراد، اداروں اور ممالک کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کریں اور عسکری کارروائی کی بھی دھمکی دیں تو یہ طاغوتی قوتیں گھٹنوں کے بل گر جائیں گی اور صرف اسی طریقے سے مظلوم مسلمانوں کی حقیقی داد رسی ممکن ہے۔
