واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا ہے کہ امریکا نے سعودی عرب کو خطرناک ہتھیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کردی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ کی کشیدہ صورتحال کو حل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکا نے 3 سال قبل سعودی عرب پر یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنا پر اسلحہ کی فراہمی روک دی تھی۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا تھا کہ وہ اسلحہ کی فروخت کو ریگولر آرڈر، کانگریس کے نوٹیفیکیشن اور مشاورت کے بعد شروع کریں گے۔ سعودی عرب امریکا کا قریبی اتحادی رہا ہے اور ہم اس اتحاد کو مزید آگے لے کر جانا چاہتے ہیں ۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے 2021 ء میں نئی حکمت عملی اپنائی گئی تھی، جس میں سعودی عرب پر انسانی حقوق کا احترام کرنے کا دباؤ ڈالا گیا تھا۔ ساتھ ہی اعلان کیا گیا تھا کہ انتظامیہ صرف انہی ممالک کواسلحہ فراہم کرے گی جو امریکی اسلحہ کے دیرینہ خریدار ہیں۔ امریکا کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا تھا جب حوثی باغیوں پر سعودی عرب کی فضائی بمباری میں بچوں سمیت ہزاروں شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اس عرصے میں اپنے معاہدے کو پورا کیا، اسی طرح ہم اپنا معاہدہ پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگانے والے امریکا، برطانیہ اور اب اسرائیل بھی حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب بھی اس حوالے سے مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں سے زبانی اظہار یکجہتی سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا گیا ہے، جب کہ حوثی بحیرئہ احمر میں تجارتی جہازوں کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں اور اسرائیل کو للکار رہے ہیں۔ 7اکتوبر سے قبل اور اس کے بعد امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن کئی بار سعودی عرب کا دورہ کرچکے ہیں۔
