الیاس متین
انتخابات کا سال قرار دیا جانے والا 2024ء نصف سے زائد گزر چکا ہے اور دنیا بھر میں کئی ممالک اس دوران سیاسی مدو جزر کا شکار رہے ہیں۔ اکثر ممالک میں انتخابی عمل کے بعد بننے والی حکومتوں سے مقامی شہری نالاں ہیں اور کئی ممالک میں احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے۔ اب دنیا کی نظریں امریکا کی سیاسی سرگرمیوں پر جمی ہوئی ہیں، جہاں نومبر میں صدارتی انتخابات کا رن پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مباحثے میں امریکی صدر کی بری کارکردگی سے ڈیموکریٹس کی صفوں میں جو خلا پیدا ہوا تھا وہ نائب صدر کملا ہیرس کی نامزدگی کے بعد پُر ہوتا نظر آرہا ہے ۔ اپسوس کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ کملا ہیرس کو قومی سطح پر ٹرمپ کے 37 فی صد کے مقابلے میں 42 فی صد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے۔ عوامی جائزے کے مطابق کملا ہیرس رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں 3اہم ترین سمجھی جانے والی ریاستوں وسکونسن، پینسلوینیا اور مشی گن میں ری پبلکن حریف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 4پوائنٹ آگے ہیں۔ امریکی اخبارنیویارک ٹائمز اور نیویارک کے سیانا کالج کے 5سے 9اگست کے درمیان کیے گئے مشترکہ سروے کے مطابق کملا ہیرس ممکنہ ووٹروں میں 50 فی صد کے ساتھ ان تینوں ریاستوں میں ٹرمپ سے آگے ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور سیانا کالج نے سروے میں 1973 ووٹرز کی رائے معلوم کی تھی۔ کملا ہیرس کی جانب سے قیادت سنبھالنے سے ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کو تقویت ملی ہے۔ 7اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی امریکی حمایت کے باعث ان ریاستوں میں بائیڈن انتظامیہ کے خلاف بڑا احتجاج اور مخالفت ہوئی تھی۔ خاص طور پر مشی گن میں لبرلز اور امریکی مسلمانوں نے اسرائیل کے خلاف بڑھ چڑھ کر احتجاج میں حصہ لیا۔ تینوں ریاستوں میں لگ بھگ 2لاکھ افراد نے غزہ کی پالیسی کے سبب ڈیموکریٹک پرائمریز میں صدر جو بائیڈن کی عدم حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نائب صدر کملا ہیرس نے فلسطینی انسانی حقوق پر عوامی بیانات دیے ، جسے امریکی پالیسی میں لب و لہجے کی تبدیلی سے تعبیر کیا گیا۔ تاہم کملا ہیرس نے غزہ پر صدر جو بائیڈن کی پالیسی سے کوئی ٹھوس اختلاف ظاہر نہیں کیا۔ سروے سے پتا چلتا ہے کہ ٹرمپ نے ان اہم ترین ریاستوں میں بائیڈن کی مباحثے میں خراب کارکردگی کے بعد ان پر برتری حاصل کر لی تھی، لیکن کملا ہیرس کے میدان میں آنے سے ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم تبدیل ہو گئی ہے۔ عوامی سروے کرنے والے ادارے اپسوس کے ایک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیرس 5نومبر کے انتخابات کی دوڑ میں قومی سطح پر بھی ٹرمپ سے آگے ہیں ۔
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس فتح یاب ہوں یا کام یابی ریپبلکنز کا مقدر بنے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد امریکا کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا؟ اب تک دنیا بھر میں جتنے ممالک میں انتخابات ہوئے ہیں وہاں حکومتوں کو مخالفین کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس تناظر میں امریکا کوبھی دیکھا جائے تو وہاں کی صورت حال بھی زیادہ مختلف معلوم نہیں ہوتی۔ 2020ء کے انتخابات میں شکست کے بعد ریپبلکن پارٹی کے حامیوں نے
کیپٹل ہل میں جودنگے کیے تھے، بعید از قیاس نہیں کہ ٹرمپ کی دوسری ناکامی پر وہی مناظر دہرائے نہ جائیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بھی انہی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کی صورت میں انتقال اقتدار پرامن طریقے سے دکھائی نہیں دیتا۔ انٹرویو کے دوران صدر بائیڈن سے پوچھا گیا تھا کہ اگر ٹرمپ صدارتی الیکشن ہارتے ہیں تو کیا اقتدار باآسانی اگلی حکومت کو منتقل ہو گا؟ جواب میں بائیڈن نے کہا کہ میں اس بارے میں بالکل پُراعتماد نہیں ہوں۔ ٹرمپ جو بات کرتے ہیں ان کے نزدیک اس کا وہی مطلب ہوتا ہے۔ ریاست اوہائیو میں مارچ میں ٹرمپ نے ایک انتخابی ریلی میں دھمکی دی تھی کہ ان کے ہارنے کی صورت میں خون بہے گا۔ دوسری جانب کملاہیرس کی شکست کی صورت میں ڈیموکریٹس کا کیا ردعمل ہوگا؟ آیا وہ بھی ریپبلکنز کی روش اختیار کرتے ہوئے فسادات کا راستہ اختیار کریں گے یا پُرامن طور پر انتخابی نتائج تسلیم کرلیں گے۔ اس سوال کا جواب شاید قبل از وقت جاننا ممکن نہیںہوگا، لیکن بظاہر لگتا ہے انتخابات میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرکے سارا ملبہ اس پر ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ 2016 ء کے انتخابات میں روسی مداخلت اور ہیکروں کے سائبر حملوں کو جواز بنا کرایک عرصے تک ماسکو سے دشمنی کا کارڈ کھیلا جاتا رہا۔ اب لگتا ہے کہ سائبر دراندازی کا الزام ایران کے سر منڈھ دیا جائے گا۔ حال ہی میں مائیکروسافٹ نے اپنی رپورٹ میں امریکی انتخابات سے متعلق ایرانی سائبر سرگرمی میں اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اپنی آن لائن سرگرمی میں اضافہ کر رہا ہے جس کا مقصد امریکی انتخابات کو نشانہ بنانا ہے ۔ مائیکروسافٹ نے بتایا ہے کہ ایرانی کارندوں نے جھوٹی خبریں گھڑنے ، سرگرم سیاسی کارکنوں کا روپ دھارنے، امریکی ووٹروں میں پھوٹ ڈالنے اور خاص طور پر سخت مقابلے والی ریاستوں میں افواہیں پھیلانے کی تربیت پر کئی ماہ صرف کیے ہیں۔ خطرے سے متعلق نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران امریکی انتخابی مہم میں اہمیت اختیار کرتا جارہاہے اور الیکشن کے لیے اپنے حربے دوبارہ واپس لارہا ہے۔ اس سے قبل امریکی انٹیلی جنس کے عہدے داروں نے انکشاف کرتے ہوئے ایرانی گروپوں کی کارروائیاں بتائی تھیں۔ امریکی عہدے دار وں کا کہنا ہے کہ تہران 2020 ء میں ہلاک کیے گئے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا انتقام لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کیسے روس اور چین امریکامیں سیاسی تقسیم کو انتخابات کے دوران آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ کی رپورٹ میں ایرانی کارروائی کی کئی مثالیں بیان کی گئی ہیں جو متوقع طور پر نومبر کے الیکشن نزدیک آتے ہی بڑھ جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق جون میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک گروپ نے فشنگ ای میل کے ذریعے امریکی انتخابی مہم کے ایک عہدے دار کو ہدف بنانے کی کوشش کی۔ فشنگ سائبر حملے کا ایک طریقہ ہے جو حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس انتخابی مہم کو نشانہ بنایا گیا۔ مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ گروپ نے ای میل کے جاری ہونے کے مقام کو خفیہ رکھنے کے لیے اسے ایک سابق سینئر مشیر کے ہیک کیے گئے اکاؤنٹ سے بھیجا۔ ایک اور واقعے میں ایرانی گروپ ایسی ویب سائٹس کو استعمال کرتا رہا جو امریکا میں قائم نیوز سائٹس کی طرح ظاہر ہوتیں اور سیاسی منظر نامے کے حریف ووٹروں کو ہدف بناتی رہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک جعلی نیوز سائٹ جس کے مخاطب بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے صارفین ہیں، ٹرمپ کی تضحیک کے لیے انہیںپاگل اور دیوانہ قراردیتی ہے اور سابق صدر سے متعلق منشیات کا عادی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ایک اور کارروائی میں ایرانی گروپ امریکی سرگرم کارکنوں کا روپ دھار کر ممکنہ طور پر الیکشن کے قریب ہونے والی کارروائیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بنیادی کام کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف ایران ہی اپنا سائبر اثر نہیں بڑھا رہا ، بلکہ روس سے وابستہ کارندوں نے بھی اپنی مہموں کا رخ امریکی انتخابات کی جانب موڑ دیا ہے ،جب کہ چینی کمیونسٹ پارٹی سے منسلک کارندوں نے یونیورسٹیوں میں ہونے والے احتجاج اور امریکا میں ہونے والے دیگر حالیہ واقعات سے فائدہ اٹھا کر سیاسی کشیدگیوں میں اضافے کی کوشش کی ہے۔ مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ وہ اس پر نظر رکھ رہا ہے کہ کس طرح غیر ملکی مخالفین اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ انتہائی کم قیمت اور آسانی سے دستیاب وہ ٹولز ہیں جو زندہ جعلی امیج، فوٹو اور وڈیوز سیکنڈوں میں بنا سکتے ہیں ۔ ماہرین کو تشویش ہے کہ یہ اتنے مسلح ہو جائیں گے کہ الیکشن میں ووٹروں کو بڑی آسانی سے گمراہ کر سکیں گے۔ بہت سے ممالک اے آئی کے ذریعے اثر انداز ہونے کی اپنی کارروائیوں کا تجربہ کر چکے ہیں ۔ ویسے تو ایران مخالف بیانیے کو ٹرمپ بھی شکست کی صورت میں اپنا سکتے ہیں، لیکن موجود حالات کی روشنی میں یہ موقف ڈیموکریٹس کے لیے زیادہ مناسب رہے گا۔ تہران دشمنی کی آڑ میں جوبائیڈن کی انتظامیہ جہاں اسرائیل سے متعلق نرم گوشہ تلاش کرسکے گی، وہاں اسے آیندہ بھی سیاسی کارڈ کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔

