اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئین میں ایسی ترمیم ہونی چاہئے کہ ایکسٹینشن کا سلسلہ ختم ہو۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہوسکتا ہے جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن کی بات خواجہ آصف سے کی ہو، ہوسکتا ہے یہ بات جنرل باجوہ نے ملک احمد خان سے نہ کی ہو۔ یہ بات انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بھی چاہتے تھے جنرل باجوہ کو تھوڑی سی ایکسٹینشن مل جائے، اس بارے گفتگو ہوتی رہی ہے۔
مشیر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کورٹ مارشل کے دوران وکیل کرنے کا حق ہوتا ہے، اس معاملے میں ہمیں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز تک ہی رہنا چاہئے۔ 9 مئی کو ایسی اسٹریٹیجی بنائی گئی کہ پریشربڑھے، ادارے میں بغاوت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اس وقت فیض حمید کی طرف ہی اشارہ ہوتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی واقعات کی فوٹیج سب نے دیکھی ہے، جب ٹرائل ہوگا توساری چیزیں پیش کی جائیں گی، ڈیڑھ سال ہوگیا ابھی تک ٹرائل ہی نہیں ہو رہا۔

