میرپورخاص(نمائندہ جسارت) گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے کے اسکول کھل گئے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مکمل کتابیں فراہم نہیں کی جا سکی ہیں، طلبہ پریشان پڑھائی میں مشکلات کا سامنا ۔ تفصیلات کے مطابق پورے سندھ کی طرح ضلع میرپورخاص میں بھی ڈھائی ماہ کی تعطیلات کے بعد آج تعلیمی ادارے کھل گئے تاہم سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے طلبہ کو مکمل کتابیں نہ مل سکیں اس حوالے سے جمع کی گئی معلومات کے مطابق ضلع میں اب تک 45 فیصد کتابیں مل چکی ہیں جبکہ 55 فیصد کتابوں کی کمی نوٹ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تعلقہ حسین بخش مری کے 56 بچوں اور 35 بچیوں کے پرائمری اسکولوں میں زیر تعلیم 9 ہزار 300 بچوں کے لیے 12 ہزار 300 کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جن میں سے صرف 50 فیصد کتابیں موصول ہوئی ہیں اسی طرح تعلقہ سندھڑی کے 212 پرائمری اسکولوں میں 19 ہزار 960 طلبا زیر تعلیم ہیں وہاں بھی 55 فیصد کم کتابیں فراہم کی گئی ہیں جن میں مختلف کلاسز اور مضامین کی کتابیں شامل ہیں۔ موصول اطلاعات کے مطابق دوسری جماعت کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی جبکہ چوتھی جماعت کی انگریزی اور سندھی کی ایک بھی کتاب فراہم نہیں کی جا سکی ہے پرائمری ایجوکیشن کے حکام کے مطابق تعلقہ کے پرائمری اسکولوں کے لیے کل 77 ہزار 832 کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جن میں سے 33 ہزار 600 کتابیں موصول ہوئی ہیں اس طرح تعلقہ سندھڑی کے سیکنڈری اسکولوں کو 40 فیصد کتابیں مل سکیں جن میں سے ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے انگریزی مضمون کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی۔ اس حوالے سے ٹی ای او سیکنڈری جمال پنہور نے بتایا کہ کتابوں کی کمی کے حوالے سے اعلیٰ حکام کو لکھا ہے اور انہوں نے بتایا ہے کہ کتابوں کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے چھپائی میں تاخیر ہونا ہے کتابوں کی دوسری کھیپ بھی جلد پہنچ جائے گی اہم مضامین کی کتابوں کی کمی ہے اس طرح تعلقہ شجاع آباد اور تعلقہ میرپورخاص میں 50 فیصد کم کتابیں فراہم کی جا سکی ہیں جن میں سے پرائمری سطح پر پہلی اور دوسری جماعت کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی جبکہ دیگر کلاسوں کی کتابیں بھی نہ ملنے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی تعلیم میں شدید خلل پڑ رہا ہے۔
