English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیو یارک : بھارتی جشن آزادی پریڈ میں رام مندر کے فلوٹ نے قضیہ کھڑا کردیا 

بھارت کے جشنِ آزادی کے حوالے سے دنیا بھر میں پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔ کہیں روڈ شو ہر ہے ہیں اور کہیں پریڈ۔ امریکا اور یورپ میں آباد بھارتی باشندے ہر سال جشنِ آزادی کے حوالے سے تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں اور پریڈ کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ 

اس سال نیو یارک میں بھارت کے جشنِ آزادی کی پریڈ میں ایودھیا کے رام مندر کے فلوٹ کا بھی پروگرام رکھا گیا ہے تاہم یہ پروگرام ابھی سے “وڑتا” دکھائی دے رہا ہے کیونکہ چند امریکی تنظیموں نے نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز اور نیو یارک کے گورنر کیتھی ہوچل کو خطوط لکھے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ رام مندر کا فلوٹ پیش کرنے کی اجازت دینا غلط ہوگا کیونکہ ایسا کرنا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے جیسا ہوگا۔ رام مندر تاریخی بابری مسجد کو منہدم کرکے بنایا گیا تھا اور اُسی زمین پر بنایا گیا ہے جس پر بابری مسجد ہوا کرتی تھی۔ 

نیو یارک کے چیئر اور گورنر سے استدعا کی گئی ہے کہ بھارت کے جشنِ آزادی کی پریڈ سے ایودھیا کے رام مندر کا فلوٹ نکلوادیا جائے کیونکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچنے کی صورت میں کشیدگی پھیل سکتی ہے۔ 

بھارت کے جشنِ آزادی کی پریڈ سے رام مندر کا فلوٹ نکالنے کی استدعا کرنے والی تنظیموں میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور دی انڈین امریکن مسلم کونسل کے علاوہ ہندوز فار ہیومن رائٹس بھی شامل ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت ایک سیکیولر ریاست ہے تاہم جو لوگ اس پریڈ کا اہتمام کر رہے ہیں وہ رام مندر کا فلوٹ پیش کرکے بھارت کی ایک مذہبی شناخت پیش کرنا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنے پر بضد ہیں کہ بھارت ایک ہندو ریاست ہے۔ 

پریڈ اور اُس میں رام مندر کے فلوٹ کو پیش کرنے کا اہتمام کرنے والی تنظیم دی وشوا ہندو پریشد آف امریکا اور دی ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے ایودھیا کے متنازع رام مندر کا فلوٹ پیش کرنے کو بالکل درست اور اظہارِ رائے کی آزادی کے مترادف قرار دیا ہے۔ 

نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز نے اِسی ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر پریڈ میں کوئی فلوٹ یا کوئی اور ایسی چیز ہے جو نفرت پھیلا سکتی ہے تو اُس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ نیو یارک میں بھارت کے جشنِ آزادی کی پریڈ 18 اگست کو ہوتی ہے۔ 

انسانی حقوق کے ماہرین اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ چند برسوں کے دوران بھارت میں اقلیتوں پر ہندوؤں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے