بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان تمام ریاستوں کے معاملات کو بگاڑنا شروع کردیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی حکومت ہے۔ مغربی بنگال میں ایک جونیر ڈاکٹر سے زیادتی اور پھر بہیمانہ قتل نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی پر دباؤ ڈالنے کا سنہرا موقع فراہم کردیا ہے۔
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے اور ممتا بینرجی اِس کی سربراہ ہیں۔ وزیرِاعلیٰ کی حیثیت سے اُنہوں نے ہمیشہ مودی سرکار کی مخالفت کی ہے اور بعض معاملات میں تو ٹکر بھی لی ہے۔ چند برس قبل جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے پاکستان کے عظیم غزل گایک غلام علی کو پرفارم کرنے سے روکا اور اُن کے شو کینسل کردیے تب مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی نے غلام علی کو کولکتہ بلواکر اُن کا شو کروایا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی قائم کئی جماعتوں کے اتحاد پر مبنی مودی سرکار نے اب ممتا بینرجی سے اگلے پچھلے سارے حساب چکتے کرنے کی ٹھان لی ہے۔ کولکتہ کے آر جے کار میڈیکل کالج میں ایک جونیر ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے کیس نے مودی سرکار کو اچھا موقع فراہم ہے۔ مشتعل ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کے جذبات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے مودی سرکار اُنہیں مخالف وزرائے اعلیٰ کے خلاف پوری قوت سے استعمال کر رہی ہے۔
ڈاکٹرز کے احتجاج کو ملک گیر بنادیا گیا ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں وہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کے احتجاج کو پُرتشدد بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مودی سرکار نے ڈاکٹرز کو یقین دلایا ہے کہ اُن کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک مرکز کی سطح پر کونسل بنائی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اُس نے مغربی بنگال اور دیگر نان بی جے پی ریاستوں کو لتاڑا ہے کہ وہ میڈیکل برادری کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی۔

