اسلام آباد: حکومت نے پٹرولیم سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پٹرول اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے لیے مالیاتی نظام میں بہتری کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں پٹرولیم، خزانہ، محصولات، اور توانائی کے وزراء سمیت دیگر متعلقہ حکام اور نجی شعبے کے نمائندے شریک تھے۔
اجلاس کے دوران پٹرولیم پالیسی 2012 میں حالیہ ترامیم کے نفاذ کے لیے فریم ورک تیار کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ گردشی قرضے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وزارت داخلہ کو ون ونڈو سہولت کا نظام تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے توانائی کی حفاظت اور اقتصادی ترقی کے لیے پٹرولیم سیکٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مقامی و غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں شامل مقامی و غیر ملکی ای اینڈ پی کمپنیوں کے سربراہان نے سرکلر قرضے کے بڑھتے ہوئے مسائل اور سیکٹر کی سکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا۔ نجی شعبے کے نمائندوں نے بھی گیس سیکٹر کے استحکام کو بہتر بنانے کے لیے سیکٹر کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فورم نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ صنعت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر گیس کے نرخوں میں ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ کا میکانزم تیار کرے۔ اس کے ساتھ ہی اوگرا آرڈیننس میں ترامیم کی تجویز بھی دی گئی۔
سکیورٹی مسائل کے حوالے سے فورم نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ای اینڈ پی کمپنیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے چیلنجنگ علاقوں میں آپریشنز کے لیے سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ون ونڈو سہولت کا نظام تیار کرے۔

