فوکٹ:تھائی لینڈ کے سابق وزیرِاعظم تھاکسین شِناواترا کی بیٹی 37 سالہ پیٹونگٹرن شنِاواترا کو وزیرِاعظم کے منصب کے لیے تھائی لینڈ کے بادشاہ نے اپنی توثیق سے نوازا ہے۔
بادشاہ مہا وجیرالونگورن کی طرف سے باضابطہ توثیق محض رسمی کارروائی ہے۔ بادشاہ کی طرف سے توثیق کا فرمان ایوانِ نمائندگان کے سیکریٹری اپاٹ سُکھانند نے اتوار کو بنکاک میں ایک تقریب کے دوران پڑھ کر سُنایا۔ اس موقع پر پیٹونگٹرن بادشاہ کے پورٹریٹ کے سامنے احتراماً جھکیں اور اس کے بعد مختصر خطاب کیا۔
پیٹونگٹرن شناواترا کو پارلیمنٹ نے دو دن قبل وزیرِاعظم منتخب کیا تھا۔ وہ ملک کی تاریخ میں کم عمر ترین دوسری خاتون وزیرِاعظم ہیں۔
تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے گزشتہ ہفتے ایک سزا یافتہ وکیل کو کابینہ کا حصہ بنانے پر وزیرِاعظم سریتھا تھاویسِن کو معزول کردیا تھا۔ تھائی لینڈ کی سیاست میں چند حالیہ عدالتی فیصلوں نے خاصی ہلچل مچائی ہے۔ آئینی عدالت سمیت پوری عدلیہ دو عشروں سے تھائی سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ میں کلیدی کردار ادا کرتی آئی ہے۔
پیٹونگٹرن شِناواترا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معیشت کو سنبھالنے کا ہوگا۔ کووِڈ کے بعد سے تھائی لینڈ کی معیشت ڈانوا ڈول ہے۔ سیاسی بے یقینی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ سرکاری مشینری کرپشن زدہ ہے۔ معیشت کی کمزوری نے لوگوں کو غیر قانونی ہتھکنڈے اپنانے پر مجبور کردیا ہے۔ کرپشن کا گراف بھی بلند تر ہوتا جارہا ہے۔
تھائی لینڈ میں کئی سال سے اقتدار کی لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ سیاسی ہیوی ویٹ تھاکسین شِناواترا کی بیٹی ہونے کے حوالے سے پیٹونگٹرن شِناواترا کو چند ایک امور میں ایڈوانٹیج ملے گا تاہم اُنہیں یہ ثابت کرنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کی سیاست دان ہیں۔

