بھٹ شاہ (نمائندہ جسارت) شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے عرس کی تقریبات کے دوران بھٹ شاہ پولیس کے افسران و اہلکاروں نے منشیات فروشی کو عام کرکے آئی جی سندھ کے نام پر لاکھوں روپے کی بھتا خوری کی، منشیات فروشی سے انکار پر دکانداروںکو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔تفصیلات کے مطابق بھٹ شاہ کے رہائشی شاہد کوری نے بھٹ شاہ پریس کلب میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ایچ او بھٹ شاہ خیر محمد ملاح، ہیڈ محرر وقار پھٹان، منظور ساریوں، ایس ایچ او کے گن مین وقار ملاح، ڈی ایس پی ہالا کے گن مین ہاشم بھانوں سمیت سی آئی اے اور دیگراہلکاروں نے میری دوکان پر آکر کہا کہ شاہ لطیف بھٹائی ؒکے عرس کے دوران سماجی برائیوں اور منشیات پر صرف زبانی سطح پر پابندی ہے لیکن آپ سر عام منشیات فروخت کریں کیوں کہ آئی جی سندھ سے ہم نے اس کے لیے 75 لاکھ میں اجازت لی ہے آپ ہمیں منتھلی دیں اور آپ کو منشیات چلانے کی مکمل اجازت ہے میں نے منشیات چلانے سے صاف انکار کیا تو مجھے دھمکیاں دی گئیں اور کہا کہ اگر تم منشیات نہیں چلاؤگے پھر بھی پیسے دینے پڑیں گے۔ ایس ایچ او کو آئی جی سندھ اور اعلیٰ افسران کو پیسے دینے ہیں،میں نے پھر مجبور ہو کر منشیات چلائی اور پولیس کو 65 ہزار روپے دیے۔
