سلہٹ: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ اپیلیٹ ڈویژن کے سابق جسٹس اے ایچ ایم شمس الدین چوہدری مانک، کوعدالت کے احاطے میں عوام نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کیا گیا۔
ڈھاکا ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، سابق جسٹس شمس الدین چوہدری مانک کو سرحدی علاقے سے بھارت فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جسٹس شمس الدین کے جسم پر کئی زخم ہیں، اور انہیں ہفتے کے روز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سلہٹ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایم ڈی صغیر میاں نے بتایا کہ جسٹس شمس الدین کی حالت نازک ہے اور انہیں اندرونی طور پر بہت زیادہ خون بہا ہے۔ ان کے نازک اعضا پر بھی شدید چوٹیں آئی ہیں اور سخت سیکیورٹی میں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل جسٹس شمس الدین کو سخت سیکیورٹی میں عدالت لایا گیا تھا، جہاں قیدیوں کی وین کے پہنچتے ہی عوام نے ان پر حملہ کر دیا۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے سابق جج پر جوتے، انڈے اور پانی کی بوتلیں پھینکیں، حالانکہ انہیں پولیس کی حفاظت میں عدالت لایا گیا تھا۔
زخمی حالت میں عدالت میں پیشی کے بعد سلہٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ عالم گیر حسین نے جسٹس شمس الدین کو واپس جیل بھیجنے کا حکم دیا اور انہیں فوج اور پولیس کی نگرانی میں سلہٹ سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔
واضح رہے کہ جسٹس شمس الدین کو سیکشن 54 کے تحت گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کی طرف سے کسی وکیل نے نمائندگی نہیں کی۔ سابق جسٹس کو عدالت میں لائے جانے کی اطلاع پر سیاسی جماعتوں کے کارکنان عدالت کے احاطے میں جمع ہوگئے اور ان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔
سلہٹ کورٹ پولیس کے انسپکٹر جمشید عالم نے کہا کہ جسٹس شمس الدین کے خلاف ڈھاکا کے بدا اور ادیبور میں قتل سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ انہیں جیل میں تمام قانونی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یاد رہے کہ سابق جسٹس کو بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے سلہٹ میں کانائیگٹ کے راستے بھارت فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انہیں کانائیگٹ پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

