بیروت:لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے اسلحہ خانے میں کتیوشا راکٹس کا ڈھیر لگا ہے۔ شمالی اسرائیل میں فوجی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملوں کے لیے حزب اللہ کیتوشا راکٹس استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس میزائل اور ڈرونز بھی ہیں۔
کتیوشا راکٹ سابق سوویت یونین کے اسلحہ ساز اداروں کے تیار کردہ ہیں۔ یہ دوسری جنگِ اعظم میں چھوٹے پیمانے کے حملوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ سابق سوویت یونین اپنے حلیفوں کو یہ راکٹ اور لانچرز فراہم کیا کرتا تھا۔ تب سے اب تک بہت سے ملکوں میں کتیوشا راکٹس بروئے کار لائے جاتے رہے ہیں۔
لبنان کی حزب اللہ ملیشیا بھی بہت حد تک کتیوشا راکٹس پر انحصار کرتی ہے۔ ان راکٹس تو یہ نام (کتیوشا) دوسری جنگِ عظیم کے دوران غیر معمولی مقبولیت سے ہم کنار ہونے والا گانا کی بنیاد پر دیا گیا۔ یہ گانا سوویت افواج میں بھی بہت مقبول ہوا تھا۔
1930 کی دہائی میں جب سوویت افواج کو تیزی سے وسیع علاقے پر بہت زیادہ راکٹ برسانے کی ضرورت محسوس ہوئی تب ایک ملٹی بیرل راکٹ لانچر تیار کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ یوں کتیوشا راکٹ اور راکٹ لانچر تیار کیے گئے۔
سوویت یونین کے ری ایکٹیو سائنس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں گریگوری لینگمیک، بورس پیٹروپیولووسکی اور آندرے کاسٹیکوف کی سربراہی میں ایک ٹیم نے پہلے کتیوشا راکٹ لانچرز تیار کیے جنہیں BM-13 کا نام دیا گیا۔
کتیوشا راکٹس سب سے پہلے جولائی 1941 میں بیلارس کے علاقے اورشا کے نزدیک استعمال کیے گئے۔ یہ سوویت یونین پر جرمن فوج کے قبضے کے بعد کی بات ہے۔ جرمن فوج کا سامنا کرنے کے معاملے میں کتیوشا راکٹ بہت کارگر ثابت ہوئے۔
سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین نے اپنے حلیف ملکوں کو یہ کتیوشا راکٹس اور لانچرز بڑے پیمانے پر فراہم کیے ہیں تاکہ وہ اتحادی ممالک کی افواج کا ڈٹ کر سامنا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ بعد میں یہ راکٹس اور لانچرز عسکریت پسند گروہوں کے ہاتھ لگ گئے۔
سرد جنگ کے زمانے میں عرب کی بہت سی ریاستیں سوویت یونین سے نظریاتی ہم آہنگی رکھتی تھیں۔ انہیں سوویت یونین کی طرف سے ہتھیار ملتے رہتے ہیں۔ اِن میں کتیوشا راکٹ بھی شامل تھے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کتیوشا راکٹس، لانچرز، کلاشنکوفز اور سوویت اسلحہ خانے کا دوسرا بہت سا اسلحہ اور گولا بارود حکومتوں اور عسکریت پسند گروہوں میں تقسیم ہوگیا۔

