کراچی / اسلام آباد /حیدرآباد( اسٹاف رپورٹر/نمائندہ جسارت)کراچی سمیت ملک بھر میں شدید بارشیں‘ نشیبی علاقے زیرآب آگئے‘ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ‘ فصلیں اورسڑکیں تباہ‘ کئی علاقوں سے زمین رابطے منقطع‘ بجلی کانظام درہم برہم‘ محکمہ موسمیات نے 31اگست تک بارش کی پیش گوئی کردی‘کراچی میں 150سے 200ملی میٹرتک بارش کاانتباہ جاری‘ یکم ستمبر کے بعد بارش کا ایک اور طاقتورسسٹم ملک میں داخل ہونے کی بھی پیش گوئی‘ محکمہ موسمیات اور برقیات نے شہریوں کیلیے الرٹ جاری کردیا‘ نشیبی علاقوں سے مکینوں کے انخلا کی تیاری‘وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کردی‘ اسپتالوں میں عملے کی چھٹیاں اور بلدیاتی اداروں کے سینیٹری عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں‘ حیدرآباد اور گرد ونواح میں طوفانی بارش، نشیبی علاقے زیر آب، حیسکو کے 60 سے زائد فیڈر ٹرپ، شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل،کئی روز سے حبس اور گرمی کے بعد پیر کے دوپہر حیدرآباد اور گرد ونواح میں طوفانی ہواؤں کے بعد موسلادھار بارش شروع ہوگئی ،بارش کے ساتھ ہی قاسم آباد، لطیف آباد سٹی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی جبکہ ذرائع کے مطابق حیسکو کے 60 سے زائد فیڈر ٹرپ ہونے کے باعث بجلی کی سپلائی معطل ہے۔جبکہ کراچی میں بارش کے بعد شہرکے متعدد علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی جو رات گئے تک بحال نہ ہوسکی۔سندھ حکومت نے سمندر میں طغیانی کے باعث ماہی گیروں کے کھلے سمندر میں جانے پرپابندی عاید کردی ہے۔بارش سے سندھ، بلوچستان اورجنوبی پنجاب کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کاخدشہ ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں، دادو، قلات، خضدار، جعفر آباد، سبی، نصیر آباد، بارکھان، لورالائی، آواران، پنجگور، واشک، مستونگ اورلسبیلہ کے مقامی نالوں/ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے، موسلا دھار بارش کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ اور اسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، قصور، سیالکوٹ، سرگودہا، فیصل آباد، ملتان،ساہیوال، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ، شمال مشرقی/جنو بی بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، خطہ پوٹھو ہار، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں /جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران کہیں کہیں آندھی چلنے اور شدید موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے موسلہ دھار بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر تمام بلدیاتی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کو کسی بھی ہنگامی حالت کی صورت میں فوی ایکشن کیلیے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، سعید غنی، جام خان شورو، مخدوم محبوب الزمان، صوبائی مشیر نجمی عالم، میئر کراچی مرتضی وہاب، میئرسکھر ارسلان شیخ، کور ہیڈکوارٹر اور کوم کار کے نمائندوں، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ دیگر اضلاع کے میئرز، ڈویژنل کمشنرز کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی۔ میٹرولوجسٹ سرفراز احمد نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ کراچی میں 150 تا 200 ملی میٹر بارش ہوسکتی ہے۔ ٹھٹھہ ، سجاول، میرپورخاص، سانگھڑ، شہید بینظیرآباد میں 250 تا 300 ملی میٹر بارش کی پیش گوئی ہے جبکہ بدین ، ٹنڈو محمد خان، تھرپارکر اور عمر کوٹ میں 500 ملی میٹر بارش کا خدشہ ہے، باقی اضلاع میں 70 تا 100 ملی میٹر تک بارش کی توقع ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سندھ کو بریفنگ دی کہ پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت میں پیدا ہونے والا ہوا کا کم دباؤ مدھیا پردیش میں شدت اختیار کرگیا ہے اور وہ جنوب مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے جو آج 26 اگست تک جنوبی سندھ میں داخل ہوگا۔ اس سسٹم کے تحت سندھ میں موسلا دھار بارش کا خدشہ ہے۔علاوہ ازیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارش کے پیش نظر 30 اضلاع میں میںانچارج مقرر کردیے ہیں، وزیراعلی سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں وزرا، مشیر اور معاون خاص کو ہر وقت متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے، کراچی ڈویژن میں ضلع شرقی اور کورنگی میں سعید غنی، ضلع ملیر میں محمد سلیم بلوچ اور ضلع جنوبی میں عثمان ہنگورو، ضلع غربی اور کیماڑی میں وقار مہدی اور ضلع وسطی میں شاہینہ شیر علی کو مقرر کیا گیا ہے۔
