راولپنڈی : انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا کو دشمن قوتوں کے خلاف فوج کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ قوم کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال سکیورٹی فورسز نے 32,173 آپریشنز کیے جن میں 193 بہادر اہلکاروں نے ملک کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر 130 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کی قیادت سکیورٹی فورسز کر رہی ہیں، جن میں اب تک 90 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
ترجمان پاک فوج بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتیں صوبے میں بے امنی کو ہوا دینے کے لیے حملے کر رہی ہیں۔ “چند لوگ پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں،” ۔
انہوں نے صوبے میں امن اور استحکام کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان فوج ان لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو ریاست اور آئین کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔
سابق انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج میں احتساب کا ایک شفاف نظام موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹاپ سٹی اسکینڈل میں فیض حمید کے خلاف شکایات موصول ہوئیں، اور قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی اطلاعات ملنے پر مسلح افواج نے اس حوالے سے انکوائری شروع کی۔
فوج کے دفاعی اخراجات کے حوالے سے بات کرتے ہوئےترجمان نے کہا کہ مسلح افواج نے اپنے اخراجات کم کیے جبکہ قومی خزانے میں 360 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرائے۔
مسلح افواج غیر سیاسی ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج مکمل طور پر غیر سیاسی ہیں اور آئین کی پابند ہیں، ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فوج ایک قومی فورس ہے۔ “یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے حق میں یا خلاف نہیں ہے” ۔
بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر
بلوچستان حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بعد کلیئرنس آپریشن میں 21 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، جس میں بلوچستان میں کئی عام شہری جاں بحق ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 25 اور 26 اگست کی درمیانی رات بلوچستان میں دہشت گردوں نے متعدد گھناؤنی کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔
“دشمن قوتوں کے کہنے پر کی جانے والی یہ بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائیاں بلوچستان کے پرامن ماحول اور ترقی کو تباہ کرنے کے لیے کی گئیں، جن کا نشانہ خاص طور پر مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے معصوم شہری بنے۔ اس کے نتیجے میں متعدد معصوم شہری شہید ہوئے” ۔
مستونگ ضلع میں، دہشت گردوں نے رارا شام کے عمومی علاقے میں ایک بس کو روکا اور بلوچستان میں روزگار کمانے والے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے 21 کو ہلاک کر دیا، اس بات کو یقینی بنایا کہ مقامی آبادی محفوظ رہے۔
تاہم، آپریشن کے دوران 14 اہلکار، جن میں 10 سکیورٹی فورسز کے جوان اور چار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل تھے، بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چند دن بعد، سکیورٹی فورسز نے خیبر ضلع کے تیراہ ویلی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ۔
9 مئی کے حوالے سے فوج کا موقف
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 9 مئی کے احتجاجات پر فوج کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور تسلسل سے برقرار رہے گا۔
آئی ایس پی آر ڈی جی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔
اپنی پریس کانفرنس کے آغاز میں، انہوں نے کہا کہ ملک اور اس کی مسلح افواج عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے پرعزم رہیں گی۔
9 مئی کے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “فوج کا 9 مئی پر مؤقف واضح ہے، جسے 7 مئی کی پریس کانفرنس میں بیان کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہو گی۔”
انہوں نے کہا کہ پوری قوم ان بہادر شہداء اور ان کے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔

