English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قندھار ہائی جیکنگ کی نیٹفلکس سیریز نے تنازعات کھڑے کردیے

1999 میں انڈین ایئر لائنز کے طیارے کی ہائی جیکنگ اور بھارتی شہریوں کے بدلے مولانا مسعود اظہر سمیت تین قیدیوں کی رہائی سے متعلق انوبھو سنہا کی نیٹفلکس ویب سیریز نے کئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔

بھارت میں بہت سے سابق انٹیلی جنس افسران کا دعوٰی ہے کہ اس ویب سیریز میں حقائق توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس ہائی جیکنگ ڈرامے میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے کردار کو گھٹاکر دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس میں آئی ایس آئی محض نمائشی طور پر ملوث تھی۔

فلم کے آخری مناظر میں اسامہ بن لادن کو ہائی جیکرز کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس پر بھی بھارت میں بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ سابق سفارت کار جی پارتھاسارتھی کا کہنا ہے کہ قندھار ہائی جیکنگ ڈرامے میں آئی ایس آئی کا کردار کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اس ویب سیریز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائی جیکنگ سے قبل کئی بار یہ بات بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے ہیڈ کوارٹرز تک پہنچائی گئی کہ ہائی جیکنگ کا خدشہ ہے مگر اس ٹِپ پر توجہ نہیں دی گئی۔ ’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کا کہنا ہے کہ یہ بات انتہائی بے بنیاد ہے کہ ’’را‘‘ کے ہیڈ کوارٹرز کو ہائی جیکنگ کے بارے میں پہلے سے کوئی ٹِپ دی گئی تھی۔ انڈیا ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے اے ایس دُلت نے کہا کہ ہوسکتا ہے نیپالی دارالحکومت سے کسی نے کوئی ٹِپ دی ہو تاہم یہ ٹِپ ’’را‘‘ کے ہیڈ کوارٹرز تک نہیں پہنچی اور یہ بات میں پورے یقین سے اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ میں اُس وقت ’’را‘‘ کا سربراہ تھا۔

انوبھو سنہا پر الزام ہے کہ انہوں نے اس ویب سیریز میں ہائی جیکرز اور کئی مسافروں کے نام بھی بدل دیے۔ ہائی جیک کی جانے والی پرواز میں اس وقت کا ’’را‘‘ کا کاٹھمنڈو اسٹیشن چیف ششی بھوشن سنگھ تومار بھی سوار تھا۔ اس کی شناخت کو چھپایا گیا تھا تاکہ وہ ہائی جیکرز کے عتاب سے محفوظ رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے